واشنگٹن۔28اکتوبر (اے پی پی):امریکا میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کو دہرایا اور پاکستان کی جانب سےکشمیریوں کے لئے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے اراکین، تعلیمی و فکری اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت …
امریکا میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم سیاہ کشمیر پر تقریب ،مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کا اعادہ کیا

مزید خبریں
واشنگٹن۔28اکتوبر (اے پی پی):امریکا میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے عزم کو دہرایا اور پاکستان کی جانب سےکشمیریوں کے لئے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے اراکین، تعلیمی و فکری اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں جاری انسانی و سیاسی بحران کو اجاگر کیا۔
تقریب میں سعود سلطان کی تصنیف ’’جموں و کشمیر ۔ دی فارگاٹن نیریٹیو: فرام ڈِسٹارٹڈ اوریجنز ٹو ڈینائیڈ فریڈم‘‘ کی رونمائی کی گئی۔ اس موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے تمام مقررین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کی اصل حقیقت اور اس کی قانونی حیثیت کو زندہ رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت کہ کشمیر دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان تصادم کا باعث بن سکتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
جو غیر قانونی ہے، اُسے کسی سیاسی یا معاشی طاقت سے قانونی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر پاکستان کا دیرینہ مؤقف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ اور عالمی قانون کے مطابق ہے۔انہوں نے کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جدوجہدیں حقِ خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں درج وعدوں کی تکمیل کی بنیاد پر کھڑی ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں فلسطین کے لوگوں کے ساتھ مشترک ہیں، دونوں ہی غیر ملکی قبضے میں رہنے والے لوگوں کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق پر مبنی ہیں۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے کردار کو سراہا جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کی۔
اُنہوں نےاس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف مذاکرات، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی وعدوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن سیاسی تصفیے میں مضمر ہے۔پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ مسئلے کا حل تنازعے پر بات چیت کرنے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی وعدوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن تصفیے کی کوششوں میں مضمر ہے۔
اس موقع پر ممتاز مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جن کی بدولت کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی توجہ میں اضافہ ہوا۔انہوں نے گزشتہ سال کو پاکستان کے لئے ایک نمایاں سفارتی کامیابیوں سے بھرپور قرار دیا۔
اپنے خطاب میں سابق سفیر توقیر حسین نے سعود سلطان کی کتاب کو ایک نہایت محققانہ اور ٹھوس علمی تصنیف قرار دیا، جو دہائیوں سے رائج مسخ شدہ عالمی تصورات کا مدلل جواب پیش کرتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت کا 1947میں کشمیر پر قبضہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کشمیر کے لئے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے مئی 2025 میں بھارت کی پہلگام جارحیت کے حوالے سے پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ ردِعمل کو سراہا جس نے بھارت کی لاپرواہی اور کمزوری دونوں کو بے نقاب کر دیا۔سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان اور کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد میں مزید تیزی لانی چاہیے کیونکہ حقیقی خودمختاری کسی دباؤ یا جبری الحاق کے کاغذوں سے نہیں بلکہ عوام کی مرضی سے جنم لیتی ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی، سیکرٹری جنرل ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم، نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام کو امید اور استقامت کا پیغام دیا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی پیشکش کو یاد دلاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کشمیری رہنماؤں یاسین ملک، شبیر شاہ اور مسرّت عالم کو فوری طور پر غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ یہ تینوں قائدین کشمیر کے نیلسن منڈیلا” ہیں جو عوامی خواہشات کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔انور اقبال نے سعود سلطان کی تصنیف کو ٹائم مشین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب کشمیر کی اصل تاریخ کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے بھارت کے 2019 کے غیر قانونی انضمام کو ’’بیوروکریٹک ٹیپ ڈانس آن ملینز آف ہیڈز ‘‘(bureaucratic tap dance on millions of heads)سے تعبیر کیا اور پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے حقوق کی حمایت کو سراہا۔معروف ادیب ڈاکٹر عارف محمود نے ادبی مزاحمت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب نے ہمیشہ آزادی کی تحریکوں میں جذبہ اور بیداری پیدا کی ہے۔
نورین طلعت عروبا نے کشمیر پر ایک جذباتی نظم پیش کی جسے شرکا نےبہت سراہا۔ تقریب کے اختتام پر پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے مصنف سعود سلطان کو ان کی تحقیقی اور غیر جانب دار علمی کاوش پر مبارکباد دی اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے تقریب میں شرکت پر تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔








