امریکا نے اقوام متحدہ سے غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورس کے قیام کی منظوری طلب کرلی

واشنگٹن ۔4نومبر (اے پی پی):امریکا نے اقوام متحدہ سے غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی منظوری طلب کرلی ہے، جس کا مینڈیٹ کم از کم 2 سال کے لیے ہوگا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسِیوس (Axios)نے منگل کو رپورٹ کیا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے کئی رکن ممالک کو ایک ڈرافٹ قرارداد بھیجی ہے، جس میں …

واشنگٹن ۔4نومبر (اے پی پی):امریکا نے اقوام متحدہ سے غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی منظوری طلب کرلی ہے، جس کا مینڈیٹ کم از کم 2 سال کے لیے ہوگا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسِیوس (Axios)نے منگل کو رپورٹ کیا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے کئی رکن ممالک کو ایک ڈرافٹ قرارداد بھیجی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مجوزہ فورس کے قیام کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ایکسِیوس ( جس نے اس ڈرافٹ کی ایک کاپی حاصل کی) کے مطابق یہ قرارداد حساس مگر غیر خفیہ قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرارداد امریکا اور دیگر شریک ممالک کو غزہ کے نظم و نسق کے لیے 2027 کے اختتام تک سکیورٹی فورس تعینات کرنے کا وسیع اختیار دیتی ہے، اور اس مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔یہ فورس ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کی مشاورت سے قائم کی جائے گی، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔رپورٹ کے مطابق، یہ بورڈ بھی کم از کم 2027 کے اختتام تک قائم رہے گا۔ ایک امریکی عہدیدار نے ’ایکسِیوس‘ کو بتایا کہ آئی ایس ایف پرامن مشن نہیں بلکہ نفاذ کرنے والی فورس ہوگی، ہدف یہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں قرارداد پر ووٹنگ ہو جائے اور اولین فوجی دستے جنوری تک غزہ پہنچا دیے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق، یہ مسودہ قرارداد سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان آئندہ مذاکرات کی بنیاد بنے گا، اس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس ایف کو غزہ کی سرحدوں کی سکیورٹی (اسرائیل اور مصر کے ساتھ)، عام شہریوں اور امدادی راہداریوں کے تحفظ، ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کی تربیت اور شراکت داری کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ڈرافٹ کے مطابق، آئی ایس ایف غزہ میں سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگی، جس میں غزہ پٹی کو غیر فوجی بنانا، عسکری و دہشت گرد انفرااسٹرکچر کی تباہی اور دوبارہ تعمیر کی روک تھام، غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر ضبط کرنا شامل ہوگا۔

مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایس ایف کو غزہ میں بورڈ آف پیس کو قابلِ قبول متحدہ کمان کے تحت تعینات کیا جائے گا، اور مصر و اسرائیل کے ساتھ قریبی مشاورت و تعاون کیا جائے گا۔مجوزہ فورس کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی قوانین، خصوصاً انسانی قوانین، کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے۔