انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے جو نہ صرف تینوں ممالک کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ پورے عالمِ اسلام کے اتحاد، استحکام اور اجتماعی سلامتی میں بھی اہم …
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدہ پورے عالمِ اسلام کو مضبوط بنائے گا، طاہر اشرفی
اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے جو نہ صرف تینوں ممالک کو مزید مضبوط بنائے گا بلکہ پورے عالمِ اسلام کے اتحاد، استحکام اور اجتماعی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ہفتہ کواپنے ایک بیان میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہونے والی اس اہم پیش رفت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے مستقبل کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ یہ دفاعی معاہدہ ہر قسم کی فرقہ وارانہ، نسلی اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہے اور اس کا بنیادی مقصد شریک ممالک کے مشترکہ دفاع، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے کو فرقہ واریت یا علاقائی رقابت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ اس کے مقاصد کو سیاسی رنگ دینا یا غلط انداز میں پیش کرنا عالمِ اسلام کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہوگا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حرمین شریفین پوری دنیا کے مسلمانوں کے اتحاد و وحدت کا روحانی مرکز ہیں جبکہ پاکستان کی مضبوط دفاعی صلاحیت، سعودی عرب کی عالمِ اسلام میں قائدانہ حیثیت اور ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی مسلم ممالک کے درمیان مزید مؤثر تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔انہوں نےمستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ مزید اسلامی ممالک بھی اس دفاعی شراکت داری کا حصہ بنیں گے، جس سے یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی،اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے ایک وسیع فریم ورک کی شکل اختیار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، پاکستان کی قیادت اور متعلقہ وزارتِ خارجہ اس امر کو بارہا واضح کر چکے ہیں کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون،سلامتی کے شعبے میں ہم آہنگی اور تزویراتی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی قیادت کے سفارتی کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے امریکہ، اسرائیل اورایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو عرب اوراسلامی دنیا اور ایران کے درمیان وسیع تر تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے اس ضمن میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور دیگر دوست اسلامی ممالک کے تعمیری کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دفاعی شراکت داری مستقبل میں عسکری تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون، مشترکہ ترقی اور انتہاپسندی، دہشت گردی اور ان پرتشدد تحریکوں کے خلاف مربوط حکمتِ عملی کی بنیاد بھی بنے گی جو مسلم معاشروں کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ایک متحد اور جامع حکمتِ عملی نہ صرف مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ پورے عالمِ اسلام میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا بھی ذریعہ بنے گی۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل، اس سے وابستہ عالمِ اسلام کے ممتاز علماء و مشائخ کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی حکومتوں اور عوام کو اس تاریخی معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے روشن اور محفوظ مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔








