امریکا نے تصدیق کی ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں ایک خلائی ہتھیار نصب کیا ہے۔
امریکا نے زمین کے مدار میں ہتھیار نصب کرنے کی تصدیق کر دی، رپورٹ

مزید خبریں
واشنگٹن۔15ستمبر (اے پی پی):امریکا نے تصدیق کی ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں ایک خلائی ہتھیار نصب کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت نے ایسی جارحانہ خلائی صلاحیت کے وجود کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک نے کہا ہے کہ مدار میں موجود یہ ہتھیار امریکی افواج کو دشمن کی ممکنہ جارحانہ کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ایئر، سپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرائے مینک نے کہا کہ امریکا بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے زمین کے مدار میں نصب کیے گئے اس نئے ہتھیار کی صلاحیتوں یا اسے کب مدار میں بھیجا گیا کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔امریکی فوج کے اعلیٰ حکام ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ خلا میں اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف رہا ہے کہ روس اور چین مستقبل کے کسی ممکنہ تنازع میں امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے اور ان کے کام میں خلل ڈالنے کی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خلا میں قائم دفاعی نظام اور انٹرسپٹر میزائل اس کے مجوزہ گولڈن ڈوم دفاعی منصوبے کا اہم حصہ ہیں، جس کا مقصد امریکاکو میزائل حملوں اور فضائی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ 1967 کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت زمین کے گرد مدار میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے امریکا، روس اور چین سمیت بڑی طاقتیں ایسے دیگر نظاموں پر کام کرتی رہی ہیں جو اس معاہدے کے دائرہ کار سے باہر ہیں، مثلاً حریف ممالک کے سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت۔
یاد رہے کہ فوجی مواصلات، نگرانی اور نیویگیشن کے لیے سیٹلائٹس کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔گزشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں امریکی سپیس فورس کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ صرف امریکی اثاثوں کا دفاع ہی نہیں کرے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر اسے حملہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ 2019 میں قائم کی گئی امریکی سپیس فورس گزشتہ 70 سالوں میں امریکی فوج کی قائم ہونے والی پہلی شاخ ہے۔ اس کا مقصد خلا میں امریکی اثاثوں کا تحفظ ہے، جن میں مواصلات اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے سینکڑوں سیٹلائٹس شامل ہیں۔امریکی سپیس فورس کے ترجمان کے مطابق خلائی کنٹرول میں وہ تمام عملی شعبے شامل ہیں جو خلا کے میدان میں مقابلہ کرنے اور کنٹرول حاصل کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ مخالف کی صلاحیتوں کو متاثر کیا جا سکے، ان میں خلل ڈالا جا سکے، انہیں کمزور کیا جا سکے یا ضرورت پڑنے پر تباہ بھی کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی سپیس فورس کی یہ صلاحیتیں جنگی کمانڈز کی ہدایات کے تحت دفاعی اور جارحانہ دونوں مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔فروری کے اوائل میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ دو روسی سیٹلائٹس نے غالباً 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے کم از کم ایک درجن یورپی سیٹلائٹس کے مواصلاتی نظام میں مداخلت کی ہے۔
ایسی مداخلتوں کے ذریعے روسی انٹیلی جنس اداروں کو ان سیٹلائٹس سے منتقل ہونے والا حساس ڈیٹا پڑھنے یا ایک طرح سے ان کا کنٹرول حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ 2024 میں امریکانے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے ایک ایسا سیٹلائٹ مدار میں بھیجا ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ دیگر سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس نے اس معاملے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔امریکی سپیس فورس کے مطابق چین اپنی فوج کو جدید بنانے کی حکمت عملی کے تحت خلائی صلاحیتیں حاصل کر رہا ہے، جبکہ روس خلا کو میدانِ جنگ کے طور پر لیتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ خلا میں برتری مستقبل کے تنازعات میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہو گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ گولڈن ڈوم دفاعی نظام کی تعمیر، تنصیب اور دو دہائیوں تک آپریشن پر تقریباً 12 کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ یہ تخمینہ غیر جانبدار کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی طرف سے لگایا گیا ہے۔ تاہم یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکا کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے بچانے کے لیے تیار کیا جانے والا یہ نظام شاید مکمل طور پر کارآمد بھی ثابت نہ ہو۔کانگریشنل بجٹ آفس نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ گولڈن ڈوم ،روس یا چین کے مکمل پیمانے کے حملے کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔امریکا کے دفاعی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نظام ایسے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں جو ممکنہ حریف ممالک کے پاس موجود ہیں۔








