امریکا نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی

واشنگٹن۔23جنوری (اے پی پی):امریکا نے عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طورپر علیحدگی اختیار کر لی ہے جس کے بعد جنیوا میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر سے امریکی پرچم ہٹا دیا گیا ہے، امریکا عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون تھا جو کل فنڈز کا 18 فیصد فراہم کرتا تھا۔اس فیصلے کی وجہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران ناقص …

واشنگٹن۔23جنوری (اے پی پی):امریکا نے عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طورپر علیحدگی اختیار کر لی ہے جس کے بعد جنیوا میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر سے امریکی پرچم ہٹا دیا گیا ہے، امریکا عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون تھا جو کل فنڈز کا 18 فیصد فراہم کرتا تھا۔اس فیصلے کی وجہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران ناقص حکمت عملی کو قرار دیا گیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق امریکی وزارتِ صحت اور خارجہ نے کہا ہے کہ اب امریکا کا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلق انتہائی محدود رہے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکااب بطور مبصر بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے۔ امریکا اب عالمی ادارہ صحت کی بجائے براہِ راست دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے اور بیماریوں کی نگرانی پر کام کرے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالتے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس انخلا کا اعلان کیا تھا۔ امریکی قانون کے تحت انخلا سے ایک سال قبل نوٹس دینا اور تقریباً 26 کروڑ ڈالر کے واجبات ادا کرنا ضروری ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے رقم کی پیشگی ادائیگی کی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنیوا میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹر سے امریکی پرچم ہٹا دیا گیا ہے۔ امریکا حالیہ ہفتوں میں اقوام متحدہ کے دیگر کئی اداروں سے بھی دست بردار ہو چکا ہے، جس سے عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز سمیت متعدد ماہرین نے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے اسے امریکا اور دنیا بھر کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق امریکا نے 2024 اور 2025 کے واجبات بھی ادا نہیں کیے۔ امریکا عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون تھا جو کل فنڈز کا 18 فیصد فراہم کرتا تھا۔ اس کے جانے سے تنظیم شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں انتظامی ٹیم نصف رہ گئی ہے اور رواں سال کے وسط تک عملے کے ایک چوتھائی حصے کو فارغ کیے جانے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ گزشتہ ایک سال کے دوران معلومات کا تبادلہ جاری رہا، مگر مستقبل میں اس تعاون کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔

 

مزید خبریں