واشنگٹن۔19جنوری (اے پی پی):امریکا نے کہا ہے کہ جزیرہ گرین لینڈ کو فوجی طور پر صرف تب ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے جب وہ امریکا کا حصہ بن جائے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو کے دوران ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے اس تزویراتی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی معاشی دباؤ ڈالنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ …
امریکا کا حصہ بننے پر ہی گرین لینڈ کو فوجی طور پر محفوظ بنایا جا سکتا ہے، امریکی وزیر خزانہ

مزید خبریں
واشنگٹن۔19جنوری (اے پی پی):امریکا نے کہا ہے کہ جزیرہ گرین لینڈ کو فوجی طور پر صرف تب ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے جب وہ امریکا کا حصہ بن جائے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو کے دوران ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے اس تزویراتی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی معاشی دباؤ ڈالنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کا دفاع کیا۔ یورپ کے8 ممالک سے درآمدات پر 10 سے 25 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی لگانے کے لئے ’’قومی ایمرجنسی ایکٹ‘‘کے استعمال کی قانونی حیثیت پر پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے یہ جواز پیش کیا کہ حقیقی قومی ہنگامی صورتحال وہ ہے جو مستقبل میں کسی قومی ہنگامی صورتحال سے بچائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ اپنی عظیم معاشی طاقت کو قطبِ شمالی میں جنگ کو روکنے کے لئے ایک پیشگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کنٹرول ایک ایسا حفاظتی حصار فراہم کرے گا جس سے سب کا فائدہ ہوگا۔ امریکی وزیر خزانہ بیسنٹ نے اس اقدام کا روس کے جزیرہ نما کریمیا کے الحاق سے موازنہ کرنے کو مسترد کر تے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یورپی بالآخر یہ سمجھ جائیں گے کہ یہ راستہ گرین لینڈ، برِاعظم یورپ کی سلامتی اور امریکا کے لئے بہترین ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا فوجی آپشن اب بھی میز پرہے جیسا کہ صدر نے پہلے اشارہ دیا تھا توامریکی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ انہوں نے اس بارے میں ٹرمپ سے براہِ راست بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی دباؤ ہی مذاکرات کا موجودہ ذریعہ ہے۔
وزیرِ خزانہ نے انتظامیہ کے قانونی موقف پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے کہ سپریم کورٹ صدر کے ان ڈیوٹیز کو عائد کرنے کے اختیارات میں مداخلت کرے گی۔ انہوں نے چین کے ساتھ موجودہ صورتحال کو بھی مستحکم قرار دیا لیکن اس عزم کا اعادہ کیا کہ طاقت کے توازن میں کسی بھی بگاڑ کی صورت میں صدر فوری کارروائی کے لئے تیار ہیں۔








