میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن پر مالیاتی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، خاص طور پر ترسیلاتِ زر پر اس کے اثرات کو دیکھا جا رہا ہے
امریکا کی نئی پابندیوں سے ترسیلاتِ زر متاثر ہونے کا خدشہ، میکسیکو کا جائزہ شروع

مزید خبریں
میکسیکو سٹی۔22مئی (اے پی پی):میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن پر مالیاتی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، خاص طور پر ترسیلاتِ زر پر اس کے اثرات کو دیکھا جا رہا ہے۔روزانہ پریس کانفرنس کے دوران صدر شین باؤم نے بتایا کہ میکسیکو کی وزارتِ خزانہ اور امریکا میں نئے تعینات سفیر روبرٹو لازیری اس معاملے کا مشترکہ طور پر تجزیہ کر رہے ہیں، تاہم ابتدائی جائزے کے مطابق فی الحال کسی بڑے خطرے کے آثار نہیں۔امریکی صدارتی حکم نامے کے تحت سرحد پار رقوم کی منتقلی اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کے لیے استعمال ہونے والی شناختی دستاویزات کی نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے۔دوسری جانب امریکی کانگریس ترسیلاتِ زر پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ اس وقت صرف نقد رقم کی منتقلی پر ایک فیصد ٹیکس لاگو ہے۔میکسیکو حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدام "دوہرا ٹیکس” ہوگا کیونکہ میکسیکو سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن پہلے ہی امریکا میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ترسیلاتِ زر میکسیکو کے لیے زرمبادلہ کے بڑے ذرائع میں شمار ہوتی ہیں۔








