جنیوا۔25جنوری (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے امریکا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کی دی گئی وجوہات کو ’’غیر حقیقی‘‘ قرار دیا ہے۔شنہوا کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے لیے پیش کی گئی …
امریکا کی ڈبلیو ایچ اوسے علیحدگی کی وجوہات حقیقت پر مبنی نہیں ، سربراہ عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
جنیوا۔25جنوری (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے امریکا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کی دی گئی وجوہات کو ’’غیر حقیقی‘‘ قرار دیا ہے۔شنہوا کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کے لیے پیش کی گئی وجوہات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں،اس فیصلے سے خود امریکا اور پوری دنیا ’’کم محفوظ‘‘ ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025 کو اپنی دوسری مدت صدارت کے پہلے دن ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے ذریعے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سے امریکا کے باضابطہ انخلا کا آغاز کیا گیا، اقوام متحدہ کو دو دن بعد اس حوالے سے باضابطہ نوٹس موصول ہوا۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت نوٹس دیے جانے کے ایک سال بعد انخلا مؤثر ہو جاتا ہے۔
ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسز نے عالمی ادارہ صحت کے بانی رکن کے طور پر امریکا کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ڈبلیو ایچ او سے امریکا کے انخلا کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کا یہ اقدام نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو کم محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا مستقبل میں دوبارہ عالمی ادارۂ صحت میں فعال کردار ادا کرے گا۔دریں اثنا، عالمی ادارۂ صحت نے اپنے ایک بیان میں امریکا کے انخلا پر افسوس کا اظہار کیا اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔
بیان کے مطابق امریکا کی علیحدگی سے متعلق امور پر عالمی ادارۂ صحت کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا جو 2 فروری سے شروع ہو رہا ہے جبکہ مئی 2026 میں ہونے والے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھی اس پر بات کی جائے گی۔ان نتائج سے نمٹنے کے حوالے سے عالمی ادارۂ صحت کے سیکریٹریٹ نے کہا کہ وہ اپنے حکومتی اداروں کی مشاورت اور رہنمائی کے مطابق اقدامات کرے گا۔
ڈبلیو ایچ او کے ایک پریس اہلکار نے بدھ کے روز شنہوا کو ای میل میں یہ بات بتائی۔اہلکار کے مطابق امریکا نے تاحال اپنی واجب الادا رکنیت فیس ادا نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ آج کی تاریخ تک امریکا نے 2024-2025 کے لیے مقررہ رکنیت کی مد میں رقم ادا نہیں کی ۔امریکی نشریاتی ادارے نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کے مطابق بقایا جات کی مجموعی رقم کا تخمینہ 278 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔








