امریکا کے ساتھ تعلقات کی مضبوط بنیاد قائم کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، چین

بوسان ۔30اکتوبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی مضبوط بنیاد قائم کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کو تیار ہے ۔ شنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نےجمعرات کے روز جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کی مضبوط …

بوسان ۔30اکتوبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی مضبوط بنیاد قائم کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنے کو تیار ہے ۔ شنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نےجمعرات کے روز جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد رکھنے اور دونوں ممالک کی ترقی کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔

شی جن پنگ بوسان میں 32ویں اے پی ای سی اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس اور جنوبی کوریا کے سرکاری دورے کے سلسلے میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی اور صدرڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ رہنمائی میں چین۔امریکاتعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکاکو شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے یہ تاریخ کا سبق بھی ہے اور موجودہ وقت کی ضرورت بھی۔انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے حالات مختلف ہونے کی وجہ سے بعض اوقات اختلافِ رائے ہونا فطری بات ہے، کیونکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کبھی کبھار رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم دونوں چین۔

امریکہ تعلقات کے رہنما ہیں۔ لہٰذا چیلنجوں کے باوجود ہمیں درست سمت پر قائم رہنا چاہیے، پیچیدہ حالات میں راہ نکالنی چاہیے، اور دونوں ممالک کو تعلقات مستحکم انداز میں آگے بڑھانا چاہییں ۔چینی صدر نے کہا کہ چین کی معیشت میں مثبت رجحان برقرار ہے۔ رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں چینی معیشت 5.2 فیصد بڑھی، جبکہ عالمی تجارت میں 4 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اندرونی و بیرونی مشکلات کے باوجود یہ کامیابی کوئی آسان کام نہیں۔انہوں نے بتایا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں آئندہ پانچ سالہ اقتصادی و سماجی ترقی کے منصوبے کی سفارشات منظور کی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین پچھلے سات دہائیوں سے مسلسل ایک ہی ترقیاتی نقشے پر عمل پیرا ہے تاکہ اپنی عوام کے لیے خوشحالی اور عالمی سطح پر ترقی کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اصلاحات کو مزید گہرا کرے گا، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے دروازے کھولے گا اور اعلیٰ معیار کی ترقی کے ساتھ مشترکہ خوشحالی کو فروغ دے گا، جس سے چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی اقتصادی و تجارتی ٹیموں نے اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی ہے اور کئی مسائل کے حل پر اتفاقِ رائے حاصل کیا ہے۔ شی نے ٹیموں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد فالو اپ اقدامات طے کریں اور طے شدہ معاملات پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ دوطرفہ اعتماد میں اضافہ ہو اور عالمی معیشت کو تقویت ملے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری تعلقات کو چین۔امریکہ روابط کا قوت کامحرک ہونا چاہیے، نہ کہ رکاوٹ کا۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو بڑے تناظر میں دیکھنا چاہیے اور باہمی تعاون کے طویل مدتی فوائد کو تسلیم کرنا چاہیے، تاکہ باہمی انتقام کے چکر میں نہ پھنسیں۔

چینی صدر نے کہا کہ “بات چیت تصادم سے بہتر ہے” اور دونوں ممالک کو مختلف سطحوں پر مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے تاکہ باہمی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہو۔اہوں نے غیر قانونی ہجرت، ٹیلی کام فراڈ، منی لانڈرنگ، مصنوعی ذہانت اور متعدی امراض کے خلاف تعاون کے امکانات پر بھی زور دیا۔شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو علاقائی و عالمی فورمز پر بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا آج کئی مشکل مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔

چین اور امریکہ بڑی طاقتوں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری بانٹ سکتے ہیں اور اپنے عوام اور پوری دنیا کے لیے مزید ٹھوس کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چین 2026 میں اے پی ای سی اجلاس جبکہ امریکہ اگلے سال جی 20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی حمایت کر سکتے ہیں تاکہ یہ اجلاس عالمی معیشت کے استحکام اور گورننس میں بہتری کے لیے مؤثر ثابت ہوں۔