امریکی بلینئر ایلن مسک کا چاند پر فیکٹریاں قائم کرنے کا منصوبہ ،بھاری نوعیت کے کام روبوٹس انجام دیں گے

ٹیک بلینئر ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس چاند پر فیکٹریاں قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جہاں بھاری نوعیت کے بیشتر کام روبوٹس انجام دیں گے۔

واشنگٹن۔9اگست (اے پی پی):ٹیک بلینئر ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس چاند پر فیکٹریاں قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جہاں بھاری نوعیت کے بیشتر کام روبوٹس انجام دیں گے۔

اردو نیوز کے مطابق سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے چند روز قبل کمپنی کی پہلی سہ ماہی مالیاتی بریفنگ کے دوران یہ بات کہی۔ایلون مسک نے کہا کہ ہم چاند پر بڑی مقدار میں سامان اتاریں گے، فیکٹریاں قائم کریں گے اور روبوٹس اس کام میں بہت مددگار ثابت ہوں گے۔سائنس ویب سائٹ سپیس ڈاٹ کام کے مطابق یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں، مسک نے پہلی بار فروری میں اس وژن کا ذکر کیا تھا جب انہوں نے ایک بلاگ پوسٹ کے ذریعے اپنی قائم کردہ کمپنی ایکس اے آئی کی سپیس ایکس کے ساتھ خریداری کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس ہفتے مسک نے ایک بار پھر اس منصوبے پر زور دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کو واضح کیا کہ زمین سے باہر صنعتی پیداوار سپیس ایکس کے مستقبل کے منصوبوں میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

منصوبے کے مطابق چاند پر قائم کی جانے والی یہ فیکٹریاں سپیس ایکس کے سٹار اے آئی سیٹلائٹس تیار کریں گی۔ کمپنی آنے والے برسوں میں زمین کے مدار میں دس لاکھ سیٹلائٹس پر مشتمل سٹار مائنڈ کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک قائم کرنا چاہتی ہے جس کے بعد ان سیٹلائٹس کو زمین کے مدار سے بھی آگے بھیجنے کا منصوبہ ہے۔سپیس ایکس کی طویل مدتی خواہش یہ ہے کہ چاند پر تیار کیے جانے والے سٹار مائنڈ سیٹلائٹس کو وہیں سے برقی مقناطیسی میس ڈرائیورز کے ذریعے خلا میں روانہ کیا جائے۔ یہ بنیادی طور پر انتہائی طاقتور ریل گنز جیسا نظام ہوگا جو سیٹلائٹس کو چاند کی سطح سے خلا میں داغ سکے گا۔ مسک نے چاند پر کام کرنے والے روبوٹس کی تعداد یا ان کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم امکان ہے کہ وہ آپٹیمس روبوٹس پر انحصار کر رہے ہیں جو ان کی ایک اور( گاڑیاں بنانے والی )کمپنی ٹیسلا تیار کر رہی ہے۔ مسک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سپیس ایکس مستقبل قریب میں آپٹیمس کے کچھ روبوٹس مریخ پر بھیجے گی تاکہ وہاں انسانوں کی آبادکاری کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکے۔