امریکہ اور پاکستان اقتصادی تعلقات کی مضبوطی کے لیے کوشاں ہیں، سفیر اسد مجید خان

واشنگٹن ۔ 25جون (اے پی پی) امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی گذشتہ سال کی تین ملاقاتوں کا مرکزی موضوع ہی دونوں ممالک کے مابین، اقتصادی تعلقات کے ساتھ ساتھ تجارت کو بڑھانا اور سرمایہ کاری تھا ۔سفیر نے ان خیالات کااظہار بدھ کے روز گلوبل پاکستان ٹیک اعلی سطحی اجلاس کے ورچوئل سیشن میں …

واشنگٹن ۔ 25جون (اے پی پی) امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی گذشتہ سال کی تین ملاقاتوں کا مرکزی موضوع ہی دونوں ممالک کے مابین، اقتصادی تعلقات کے ساتھ ساتھ تجارت کو بڑھانا اور سرمایہ کاری تھا ۔سفیر نے ان خیالات کااظہار بدھ کے روز گلوبل پاکستان ٹیک اعلی سطحی اجلاس کے ورچوئل سیشن میں حصہ لینے کے دوران کیا، جس کا موضوع ، "سلیکون ویلی سے پاکستان میںٹیکنالوجی کی منتقلی کو چالو کرنا ،”تھا یہ بات یہاں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی ۔ اس سیشن کی کارروائی لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائینسز ( لمز) کی فیکلٹی کے ایڈجوٹینٹ ڈاکٹر نوید افتخارنے چلائی ۔سفیر اسدخان نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منزل میں سے ایک ہے تاہم انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے میں ترقی کے کافی امکانات موجود ہیں۔انہوں نے ٹیک سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لئے مراعات اور آئی ٹی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے حکومت پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔سفیر نے پاکستان کے دقیانوسی تصور سے وابستہ چیلنجوں پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کا طویل مدتی اور پرعزم شراکت دار رہاہے ۔اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے قائم مقام چارج ڈی افیئرز، جان ہوور ، جنہوں نے بھی اس مباحثے میں حصہ لیا ، نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں قابل افراد کی بڑی تعداد اور کاروباری ماحول موجود ہے اور امریکہ اور پاکستان دونوں کو چھوٹے کاروبار اور آغاز کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہوور نے مزید کہا کہ امریک سرکاری اور نجی دونوں شراکت داروں کے ساتھ مل کر وسیع پروگراموں پر کام کر رہا ہے تاکہ امریکی تاجروں کو امریکہ میں ٹیک نظام سے منسلک کیا جاسکے۔نیٹ سلوشنز ٹیکنالوجیز کے چیئرمین نجیب غوری اور یڈیٹر ان چیف چیف اسٹارٹ گائیڈ محترمہ شہاب نیازی ،نے بھی پاکستان میں کاروباری ماحول اور اسٹارٹ اپ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اس شعبے سے وابستہ چیلنجوں سے نمٹنے کے طریقوں کی تلاش کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔