امریکی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لی، ایوان نمائندگان میں بھی حکمران جماعت پر برتری

امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس نے 100 رکنی سینیٹ میں 51 نشستیں لے کر اکثریت حاصل کر لی جبکہ 10 نشستوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔بی بی سی کے مطابق امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں حکمران جماعت ریپبلکنز کو دونوں ایوانوں میں بظاہر شکست کا سامنا ہے

واشنگٹن۔4نومبر (اے پی پی):امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس نے 100 رکنی سینیٹ میں 51 نشستیں لے کر اکثریت حاصل کر لی جبکہ 10 نشستوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔بی بی سی کے مطابق امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں حکمران جماعت ریپبلکنز کو دونوں ایوانوں میں بظاہر شکست کا سامنا ہے۔

اس وقت ایوان بالا سینیٹ میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کو 51 ارکان کی واضح اکثریت حاصل ہوچکی ہے اور حکمران ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی تعداد 40 ہو گئی ہے جبکہ9نشستوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ایوان نمائندگان میں بھی حکمران جماعت 108 نشستیں حاصل کرسکی ہے جبکہ ڈیموکریٹس 181 نشستوں کے ساتھ کافی آگے جارہے ہیں۔نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور مخالف جماعت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہیں۔ صڈر ٹرمپ نے مزید کہا ممکنہ طور پر ہم کسی نہ کسی اتفاقِ رائے تک پہنچ جائیں گے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا نام آج کے بیلٹ پیپر پر نہیں تھا اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیتتے۔ان مختصر الفاظ سے ایسا تاثر ملا کہ ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری ریپبلکن امیدواروں پر ڈال دی ہے۔

متعدد ریپبلکن پہلے ہی وسط مدتی انتخابات کے حوالے سے ٹرمپ کے طرزِ عمل پر ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ اور ان کے خاندان کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ہونے والی مالی سرگرمیوں سے متعلق مختلف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے جیسے متنازع فیصلوں کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔وہ ٹرمپ کے خلاف تیسری بار مواخذے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ ان کی توجہ انتظامیہ کے بعض وزرا کی جانب زیادہ ہو۔یہ صورتحال آئندہ دو برس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے اور منصوبوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

 

مزید خبریں