واشنگٹن۔7اپریل (اے پی پی):امریکی کانگرس کی ایران نژاد رکن یاسمین انصاری نے امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر نے کا اعلان کر دیا ۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے اپنے اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کو حاصل ہے، کسی من مانی کرنے والے صدر یا اس کے قریبی حلقے کو …
امریکی رکن کانگرس کا وزیر دفاع کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان

مزید خبریں
واشنگٹن۔7اپریل (اے پی پی):امریکی کانگرس کی ایران نژاد رکن یاسمین انصاری نے امریکا کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر نے کا اعلان کر دیا ۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے اپنے اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کو حاصل ہے، کسی من مانی کرنے والے صدر یا اس کے قریبی حلقے کو نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹ ہیگستھ کی لاپرواہی سے امریکی فوجی اہلکاروں کو خطرے میں ڈالنا اور بار بار جنگی جرائم کا ارتکاب، جن میں ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بمباری اور شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا شامل ہے، وزیر دفاع کے مواخذے اوران کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی ہیں۔
امریکی ادارے ایکسیوس نے یاسمین انصاری کی خبر کے ساتھ پیٹ ہیگستھ کی عوامی مقبولیت میں کمی کی بھی نشاندہی کی ہے۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹن نوم اور اٹارنی جنرل پام بَنڈی کی برطرفیوں کے بعد پیٹ ہیگستھ ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں ڈیموکریٹس کی طرف سے تنقید کا بڑا ہدف بن چکے ہیں۔سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹ ہیگستھ ٹرمپ کابینہ کے اراکین میں شامل ہیں جن کی امریکی عوام میں مقبولیت سب سے کم سطح پر ہے ، جبکہ ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے ان کی عوام میں مقبولیت میں مزید کمی کی ہے۔








