وفاقی وزیرنوابزادہ خالد حسین مگسی سے یونیسیف کی قائم مقام نمائندہ اور لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پراجیکٹ کے کنٹری ہیڈ کی ملاقات

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نوابزادہ خالد حسین مگسی سے یونیسیف کی قائم مقام نمائندہ شرمیلہ رسول اور لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پراجیکٹ (LEEP) کے کنٹری ہیڈ عابد حسن نے ملاقات کی۔

اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نوابزادہ خالد حسین مگسی سے یونیسیف کی قائم مقام نمائندہ شرمیلہ رسول اور لیڈ ایکسپوژر ایلیمینیشن پراجیکٹ (LEEP) کے کنٹری ہیڈ عابد حسن نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی سیکرٹری وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) کے چیئرمین ڈاکٹر سید حسین عابدی بھی شریک تھے۔ ملاقات میں روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء، خصوصاً ہلدی، پینٹس، سرمہ اور دیگر صارف مصنوعات میں لیڈ (Lead) کی موجودگی سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ بچوں، حاملہ خواتین اور دیگر حساس طبقات کو لیڈ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ان مصنوعات کے معیار کو مؤثر انداز میں ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نوابزادہ خالد حسین مگسی نے اعلان کیا کہ ہلدی، پینٹس، سرمہ اور دیگر متعلقہ مصنوعات کو پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کی لازمی سرٹیفکیشن فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ان مصنوعات کے معیار کی موثر نگرانی ممکن ہوگی، مارکیٹ میں غیر معیاری اور مضرِ صحت مصنوعات کی روک تھام ہوگی اور عوام تک محفوظ مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ یونیسیف اور LEEP نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، PSQCA اور PCSIR کو مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس تعاون میں قومی معیارات کی تیاری اور نفاذ، متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ، تکنیکی عملے کی تربیت، جدید لیبارٹری سہولیات کی فراہمی، ٹیسٹنگ کے نظام کو مضبوط بنانا اور کوالٹی اشورنس کے موثر نظام کی تشکیل شامل ہوگی۔

وفاقی وزیر نے یونیسیف اور LEEP کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ محفوظ اور معیاری مصنوعات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جدید معیار، مضبوط ریگولیٹری نظام اور بین الاقوامی معیار کی لیبارٹریز کے ذریعے عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون، تکنیکی معاونت اور مؤثر ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے ان فیصلوں پر عملی پیش رفت کو یقینی بنائیں گے۔

اس شراکت داری سے نہ صرف لیڈ سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پاکستان کے قومی معیار، ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔ملاقات کے اختتام پر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، PSQCA، PCSIR، یونیسیف اور LEEP نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ محفوظ صارف مصنوعات کے فروغ، قومی معیار کے نظام کی بہتری اور عوام بالخصوص بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔