نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل، معیاری تعلیم، شفاف گورننس اور آئینی بالادستی ہی ترقی کی ضمانت ہیں،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کانووکیشن سے خطاب

"وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان بے شمار قدرتی وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور نوجوان آبادی سے مالا مال ملک ہے۔”

پشاور۔ 29 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ اور ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں،پاکستان بے شمار قدرتی وسائل، باصلاحیت افرادی قوت اور نوجوان آبادی سے مالا مال ملک ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں شفاف، جوابدہ اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے، جن کے نتیجے میں نہ صرف مالی نظم و نسق بہتر ہوا بلکہ حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال اور محصولات میں نمایاں اضافہ بھی ممکن ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریباً پچھتر برس تک خیبرپختونخوا کی سالانہ محصولات تقریباً 68 ارب روپے کی سطح پر رہیں، تاہم موجودہ صوبائی حکومت نے مالیاتی نظم و نسق، شفافیت، احتساب اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے بغیر کوئی نیا ٹیکس عائد کیے مالی سال 2024-25 میں صوبائی محصولات بڑھا کر 92 ارب روپے تک پہنچا دیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے محصولات کا ہدف 129 ارب روپے مقرر کیا تھا، تاہم مؤثر اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے، وسائل کے ضیاع کی روک تھام اور ریونیو نظام کی بہتری کے باعث صوبائی محصولات 150 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں، جو خیبرپختونخوا کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا نتیجہ نہیں بلکہ مؤثر گورننس، مالی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کا ثمر ہے۔ اگر نیت درست ہو، نظام شفاف ہو اور حکومتی ادارے عوامی مفاد کو مقدم رکھیں تو عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے بغیر بھی محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تمام مالی مشکلات کے باوجود عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور محدود وسائل کے باوجود ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور یونیورسٹی سمیت صوبے کی تمام سرکاری جامعات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے وقت جامعات شدید مالی بحران، اربوں روپے کے خسارے اور کئی برسوں سے زیر التوا پنشن واجبات جیسے مسائل سے دوچار تھیں، تاہم حکومت نے ان مسائل کے حل کو ترجیح دیتے ہوئے مرحلہ وار اصلاحات کے ذریعے جامعات کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سال 2017 سے جون 2026 تک سرکاری جامعات کے تمام پنشن واجبات مکمل طور پر ادا کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جامعات کے مالی خسارے میں بھی نمایاں کمی کی ہے۔ موجودہ حکومت کے ذمہ داریاں سنبھالنے کے وقت جامعات کو تقریباً 9 ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا جسے کم کر کے تقریباً 4.5 ارب روپے تک لایا گیا ہے۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں جامعات کے لیے حکومتی معاونت کو 10 ارب روپے تک بڑھایا گیا جبکہ رواں مالی سال میں اس رقم میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مالی استحکام حاصل ہو اور وہ تدریس، تحقیق اور معیارِ تعلیم کی بہتری پر بھرپور توجہ دے سکیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت کے دوران متعارف کرایا گیا احساس اسکالرشپ پروگرام ہزاروں مستحق اور باصلاحیت طلبہ کے لیے امید کی کرن ثابت ہوا، جس کے ذریعے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، تاہم بعد ازاں اس پروگرام کو بند کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریب کے دوران انہیں ایسے متعدد طلبہ سے ملنے کا موقع ملا جنہوں نے احساس اسکالرشپ پروگرام سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی، نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت احساس اسکالرشپ پروگرام کو اپنے وسائل سے دوبارہ شروع کرے گی تاکہ کوئی بھی باصلاحیت طالب علم مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت طلبہ کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے بلاسود تعلیمی قرضوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ایسے طلبہ جو ملک کے اندر اپنی تعلیمی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں بھی بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بلا تعطل اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عملی میدان کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے انٹرنشپ پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جس کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں عملی تربیت، پیشہ ورانہ تجربہ اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل ہمیشہ آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور حقیقی جمہوری نظام کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معاملات، آئینی ذمہ داریوں اور جمہوری اقدار سے بھی آگاہ رہیں کیونکہ مستقبل کی قیادت انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی بڑی جمہوری، آئینی اور قومی تحریکوں میں طلبہ نے ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے اور آج بھی نوجوان پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔ صوبے کے حقوق سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور آئین پاکستان کے تحت ان وسائل پر سب سے پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی، قانونی اور مالی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر بھرپور انداز میں آواز اٹھاتی رہے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بجلی اور قدرتی گیس پیدا کرنے والے اہم صوبوں میں شامل ہے، تاہم اس کے باوجود صوبے کے عوام گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جہاں قدرتی گیس پیدا ہوتی ہے، اس پر سب سے پہلے وہاں کے عوام کا حق ہے، لہٰذا اس آئینی اصول پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی گیس پیداوار میں نمایاں حصہ ڈال رہا ہے جبکہ صوبے کی اپنی کھپت اس سے کہیں کم ہے، اس کے باوجود عوام کو ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح صوبے کو مختلف مالی مدات میں واجب الادا رقوم کی بروقت ادائیگی بھی ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی پروگراموں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب بھی کسی صوبے یا علاقے کے آئینی اور معاشی حقوق نظرانداز کیے جاتے ہیں تو وہاں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام اکائیوں کو آئین کے مطابق ان کے حقوق دئیے جائیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ وفاق مزید مضبوط ہو اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے۔ وزیراعلیٰ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنے خوابوں پر سمجھوتہ نہ کریں، بڑے مقاصد کا تعین کریں اور ان کے حصول کے لیے مسلسل محنت، دیانت داری اور استقامت کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشکلات کے باوجود اپنی منزل سے نظریں نہیں ہٹاتے۔ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو منعقد کیے جانے والے جلسے میں بھرپور شرکت کریں اور آئین، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، عوامی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت نوجوانوں، طلبہ، جامعات اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتی رہے گی اور تعلیم، معیشت، گورننس اور عوامی خدمات کے شعبوں میں اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور یہی نسل ملک کو ترقی، خوشحالی، خودانحصاری اور حقیقی جمہوری استحکام کی منزل تک لے جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پشاور یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کی، ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنی علمی، پیشہ ورانہ اور اخلاقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔