"سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل تفریح کے بڑھتے رجحان کے باعث پشاور کے کبھی پرہجوم سنیما گھر بتدریج اپنی رونق کھو رہے ہیں اور کئی سنیما گھر بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔”
سوشل میڈیا کا دور، پشاور کے پر ہجوم سنیما گھر بتدریج ختم ہونے کے دہانے پر

مزید خبریں
پشاور۔ 29 جولائی (اے پی پی):صوبائی دارالحکومت پشاور میں تفریح فراہم کرنے والے سنیما گھر جو کبھی لوگوں کےلیے تفریح کا سب سے اہم ذریعہ تھے، سوشل میڈیا کے دور میں ماند پڑ گئے ہیں اور شہر کے باسیوں کےلیے صرف ان کی یادیں رہ گئی ہیں۔
سنیما میں فلم دیکھنے کے شائقین میں سے ایک احتشام خان بھی ہیں۔ وہ ہر ہفتے کے اختتام پر اپنے دوستوں کو پشاور کی جی ٹی روڈ پر واقع فردوس سنیما لے جاتے تھے جہاں ٹکٹ کی کھڑکی پر لمبی قطاریں لگی ہوتی تھیں، بھنی ہوئی مونگ پھلیوں کی خوشبو ہوا میں رچی بسی ہوتی تھی اور لوگ پشتو کی نئی فلم کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کےلیے سنیما صرف فلمیں دیکھنے کی جگہ سے بڑھ کر تھا بلکہ ایک ثقافتی مرکز تھا جہاں یادیں بنتی تھیں، دوستیاں گہری ہوتی تھیں اور پشتون ثقافت سلور اسکرین پر زندہ ہو اٹھتی تھی آج اردو ادب کے لیکچرار احتشام خان اسی جگہ پر کھڑے ہیں لیکن ایک شاندار سنیما عمارت کے بجائے وہ ایک جدید شاپنگ پلازہ دیکھتے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں سے تفریح کی جگہ بدلنے والے ہلچل سے بھرے کمرشل کمپلیکس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ فردوس سنیما کو غائب ہوتے دیکھنا دل دہلا دینے والا تھا۔ میں نے ہفتے کے اختتام پر وہاں لاتعداد پشتو فلمیں دیکھیں اور عید کے دنوں میں اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ یہاں آتا تھا۔ وہ سنہرے دن تھے جب پشاور میں لوگ اکٹھے ہنستے، خوشی سے روتے اور جشن مناتے تھے۔ اب مجھے صرف کاسمیٹکس، جوتوں، شیشے اور کپڑوں کی دکانیں نظر آتی ہیں۔تجارتی سرگرمیوں کےلیے سنیماؤں کو بلڈوز کرنے کے بعد اس جگہ کی ثقافتی روح فنا ہو رہی ہے۔ احتشام کی کہانی خیبر پختونخوا کے ہزاروں لوگوں سے ملتی جلتی ہے جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اسٹریمنگ سروسز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تیز رفتار ترقی نے تفریحی عادتوں کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ثقافتی ماہرین، فلم سازوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو خدشہ ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سہولت لائی ہے لیکن اس نے سنیما کلچر کے زوال کو بھی تیز کر دیا ہے جس سے کمیونٹی کے باہمی تعلقات کمزور ہو رہے ہیں اور صوبے کی ثقافتی شناخت کے ایک اہم حصے کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ پشاور اور دیگر اضلاع میں سنیما ہالز جو کبھی رات تک کھچا کھچ بھرے سامعین کو راغب کرتے تھے، اب بقا کےلیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ نوجوان مسلسل کئی گھنٹے مختصر ویڈیو ایپلی کیشنز کو اسکرول کرنے، آن لائن مواد دیکھنے یا تعلیم و تفریح کے لیے اے آئی سے چلنے والے ٹولز پر انحصار کرنے میں گزارتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گرمیوں کی تعطیلات جاری ہیں، ایسے میں بہت سے طلباء اعتراف کرتے ہیں کہ موبائل فونز ان کی تعلیمی سرگرمیوں کی تکمیل کےلیے ان کے بنیادی ساتھی بن چکے ہیں۔ پشاور کے ایک نجی اسکول کی آٹھویں جماعت کی طالبہ ملائکہ بی بی کہتی ہیں کہ موبائل فونز خاص طور پر ڈیڈ لائن قریب آنے پر گرمیوں کی چھٹیوں کا کام جلدی مکمل کرنے کے لیے ہمارا سب سے موثر ٹول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایپلی کیشنز اور تعلیمی پلیٹ فارمز نے تعلیمی مسائل کے فوری ہائی لائٹس، ترجمے اور حل فراہم کر کے نجی ٹیوٹرز پر انحصار کو کم کر دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین اے آئی کے تعلیمی فوائد کا اعتراف کرتے ہیں لیکن وہ اس کے باوجود خبردار بھی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حد سے زیادہ انحصار طرز زندگی کو بھی بدل رہا ہے، آؤٹ ڈور سرگرمیوں کو کم کر رہا ہے اور براہ راست شرکت کے سماجی تعلقات کو محدود کر رہا ہے۔دہائیوں تک پشاور کو پشتو سنیما کا دل سمجھا جاتا تھا جہاں معیاری تفریح کے ذریعے معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔ کیپٹل، فلک سیر، سبرینا، میٹرو، شبستان، پلوشہ اور ناز جیسے مشہور سنیما ہاؤسز وہ تاریخی مقامات تھے جہاں ہر ہفتے ہزاروں لوگ پشتون روایات، لوک داستانوں اور اقدار پر مبنی فلموں سے لطف اندوز ہونے کےلیے جمع ہوتے تھے۔ یہ شہر فخر کے ساتھ لیجنڈ اداکار دلیپ کمار (یوسف خان) اور راج کپور کے ساتھ آبائی تعلقات کا دعویٰ بھی کرتا ہے جو پشاور کو جنوبی ایشیائی سنیما کی تاریخ کا ایک اہم باب بناتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث وہ تاریخی مقامات مسلسل غائب ہو گئے ہیں۔ پشاور میں کئی تاریخی سنیماؤں کو شاپنگ مالز، ہوٹلوں اور تجارتی پلازوں کے لیے جگہ بنانے کےلیے مسمار کر دیا گیا ہے جو کاروباری ترجیحات کی تبدیلی اور روایتی سنیما جانے میں عوام کی کم ہوتی دلچسپی دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پشاور میں کبھی چلنے والے تقریباً 15 سنیماؤں میں سے صرف چند ایک بشمول ارشد، آئینہ، ناز اور شمع اب بھی فعال ہیں اور وہ بھی غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔ سبرینا سنیما کے مینیجر گوہر یوسفزئی نے قومی خبر رساں ادارے”اے پی پی”سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے اختتام پر بھی جب کبھی ہاؤس فل کی توقع کرتے ہیں، ہم مشکل سے اتنے ٹکٹ بیچ پاتے ہیں کہ بجلی کے بل پورے ہو سکیں۔ آپریٹنگ اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ شائقین مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ پالیسی سپورٹ اور سرمایہ کاری کے بغیر بقا دشوار ہوتی جا رہی ہے۔سینئر فلم ساز وہ وقت یاد کرتے ہیں جب پشتو سنیما لوگوں کی امیدوں، جدوجہد اور روایات کی نمائندگی کرتا تھا۔ 1970 میں پہلی پشتو زبان کی فیچر فلم ‘یوسف خان شیر بانو’ کی ریلیز نے علاقائی سنیما میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ اس کی کامیابی نے فلمی صنعت کی ترقی کو متاثر کیا جس نے عزت، شجاعت، محبت اور خاندانی اقدار کو اجاگر کرنے والی کہانیاں پیش کیں۔ بدر منیر، یاسمین خان اور آصف خان جیسے لیجنڈ اداکار گھر گھر مشہور ہوگئے جبکہ سنیما ہال جذباتی مکالموں اور یادگار گانوں سے گونج اٹھتے تھے جو نسل در نسل پسند کیے گئے۔سینئر ڈائریکٹر شاہد خان نے کہا کہ پشتو سنیما ہمارا ثقافتی اثاثہ تھا۔ یہ ہماری زبان، روایات، مزاح اور جذبات کی عکاسی کرتا تھا۔ جب ہم نے اپنے سنیما کھو دیے، تو ہم نے اپنی تاریخ کے ساتھ ایک اہم تعلق بھی کھو دیا۔ انڈسٹری کے سینئر ماہرین کا ماننا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سنیما کے زوال میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا۔ 1990 کی دہائی کے دوران، پشتو فلم سازوں نے سنسنی خیز اور خوف پر مبنی پروڈکشنز کی طرف تیزی سے رخ کیا جس نے خاندانی شائقین کو الگ تھلگ کر دیا۔ شاہد خان نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ بامعنی کہانیوں کے بجائے فلموں نے تشدد اور ٹریجڈی پر توجہ مرکوز کی۔ شائقین بتدریج دور ہوتے گئے کیونکہ جذباتی تعلق ختم ہو چکا تھا اور کہانیاں پشتون ثقافت سے نہیں ملتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی جہاں سنیما ہالز تشدد کا نشانہ بنے جن میں پشاور کے شمع سنیما کا بم دھماکہ بھی شامل ہے جبکہ امن و امان کی خراب صورتحال نے سوات، مردان اور کوہاٹ کے کئی تھیٹروں کو مستقل طور پر بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ پرائیڈ آف پرفارمنس اور معروف پشتو اداکار جاوید بابر نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد فلم سنسرشپ صوبائی ذمہ داری بن گئی لیکن خیبر پختونخوا نے اپنا سنسر بورڈ قائم نہیں کیا۔نان کے مطابق اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ریگولیٹری خلا نے میموری کارڈز، ڈی وی ڈیز اور آن لائن لیکس کے ذریعے پائریسی کو پنپنے کا موقع دیا جس نے خیبر پختونخوا میں باکس آفس کی آمدنی کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں فنکار، ٹیکنیشنز اور سنیما ورکرز پہلے دہشت گردی اور بعد میں کووڈ-19 کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔ کچھ اداکار اب اپنے خاندان کی کفالت کےلیے رکشہ چلاتے ہیں یا بطور مزدور کام کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ کبھی فلم سازی کی طرف واپس نہیں آئے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان میں فلم انڈسٹری کو فروغ دینے کےلیے "بائنڈنگ فلم فائنانس فنڈ” قائم کیا ہے۔ فنکاروں کےلیے میڈیکل انشورنس پالیسی متعارف کرائی گئی ہے اس کے علاوہ نئے سنیماؤں، پروڈکشن ہاؤسز، فلم میوزیم کے قیام پر فلم سازوں کےلیے انکم ٹیکس پر ٹیکس چھوٹ اور پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ اور 10 سال کےلیے فلم اور ڈرامے پر ٹیکس ریبیٹ دیا گیا ہے۔نانہوں نے کہا کہ نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ اور پوسٹ فلم پروڈکشن کی سہولت کے قیام کے علاوہ ایک نیشنل فلم اسٹوڈیو فلم انڈسٹری کو بحال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر مشترکہ فلم اور ڈرامہ پروجیکٹس پر غیر ملکی فلم سازوں کو بھی رعایتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت اور ثقافت سمیت کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلیے ان پر پاکستان میں فلم کی 70 فیصد شوٹنگ کی شرط لاگو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر آٹھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے اور نئی فلموں اور ڈراموں کے لیے مشینری، آلات اور سامان کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی سے پانچ سال کی چھوٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس بل 2018 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ نئی فلموں اور ڈراموں کے لیے آلات کی درآمد کو سیلز ٹیکس اور تفریحی ڈیوٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ ایسے وقت میں جب سنیما انڈسٹری سیکیورٹی چیلنجز اور مالیاتی دباؤ سے نبرد آزما تھی، اسمارٹ فونز نے خاموشی سے تفریح کے استعمال کو بدل دیا۔ آج مختصر ویڈیوز، آن لائن فلموں اور سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کے لامتناہی سلسلے نے بہت سے نوجوانوں کےلیے سنیما ہالز کے ویکنڈ کے دوروں کی جگہ لے لی ہے۔ سینئر اداکار شاہد خان کہتے ہیں کہ شائقین اب بھی موجود ہیں لیکن ہمیں معیاری فلموں کی ضرورت ہے۔ ہم نے گزشتہ عید کے دوران حوصلہ افزا ہجوم دیکھا، آنے والے یومِ آزادی کی ریلیز پر مزید مداحوں کی امید ہے۔ اگر معیاری فلمیں بنائی جائیں تو لوگ یقیناً واپس آئیں گے۔ لیکن فلم سازوں کو مالی مدد، مضبوط ریگولیشن اور جدید سنیما انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنیماؤں کا غائب ہونا صرف معاشی اور مالیاتی نقصان سے بڑھ کر ہے۔ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ملک ریاض نے خبردار کیا کہ سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ انحصار تنہائی، بے چینی اور براہ راست تعلقات میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سنیما، تھیٹر اور لائیو پرفارمنس روایتی طور پر بات چیت، ہمدردی اور کمیونٹی کے باہمی تعلقات کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ جب وہ مشترکہ تجربات غائب ہو جاتے ہیں، تو معاشرہ بتدریج وہ جگہیں کھو دیتا ہے جہاں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ پرامن طریقے سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فواد اسحاق نے کہا کہ سنیماؤں کے زوال کے معاشی اثرات خیبر پختونخوا میں شدید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنیماؤں کی بندش نے پروجیکشنسٹس، ٹکٹ بیچنے والوں، اشرز، تاجروں اور درجنوں چھوٹے کاروباروں کو متاثر کیا ہے جو فلم بینوں پر منحصر تھے۔ انسانی حقوق کے وکیل آصف خان یوسفزئی نے کہا کہ ثقافتی زندگی تک رسائی کو بین الاقوامی سطح پر ایک بنیادی ثقافتی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آرٹ، فلم اور کمیونٹی تعلقات کے روایتی مواقع غائب ہو جاتے ہیں تو ثقافتی اظہار اور سماجی ہم آہنگی کے مواقع کمزور ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گردی گھس آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کو سنجیدگی کے ساتھ محفوظ کیا جانا چاہیے۔ انڈسٹری کے سٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ اگر حکومت سنیماؤں اور فلم سازی کی سرپرستی کرے تو بحالی اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے صوبائی فلم پالیسی کے قیام، پائریسی مخالف قوانین کو مضبوط بنانے، سنیما کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن کی حوصلہ افزائی کرنے، فلمی سکولوں میں سرمایہ کاری کرنے اور پشتون معاشرے کی عکاسی کرنے والی معیاری کہانیاں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اسکرپٹ رائٹرز کی حمایت کرنے کی سفارش کی۔ ڈاکٹر ملک ریاض نے کہا کہ پشتو سنیما صرف فلموں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہماری لوک داستانیں، ہماری روایات، ہماری زبان اور ہماری اجتماعی یادداشت ہے۔ اگر ہم اسے مکمل طور پر کھو دیتے ہیں تو ہم اپنی شناخت کا ایک اہم حصہ کھو دیں گے۔ احتشام خان نے کہا کہ وہ جب بھی نئی فلم دیکھنا چاہیں گے خصوصاً پاکستان کے یومِ آزادی پر راولپنڈی یا لاہور کا سفر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں طالب علم تھا، دوستوں کے ساتھ فردوس سنیما جانا بڑے ہونے کا ایک حصہ تھا، آج کی نسل شاید اس جوش و خروش کا کبھی تجربہ نہ کر سکے۔ جیسے جیسے پشاور کا افق شاپنگ مالز، تجارتی پلازوں اور بلند و بالا عمارتوں سے سجا ہوا مسلسل بدل رہا ہے، بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ شہر کی بھرپور ثقافتی تاریخ کا ایک اور باب جلد ہی صرف مدھم ہوتی تصویروں اور پیاری یادوں میں رہ جائے گا۔ پشتو سنیما دوبارہ ابھر سکتا ہے یا نہیں اس کا انحصار نہ صرف سرکاری پالیسی اور انڈسٹری کی سرمایہ کاری پر ہوگا بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ آیا معاشرہ ان مشترکہ ثقافتی جگہوں کو محفوظ رکھنے کا انتخاب کرتا ہے یا نہیں جنہوں نے کبھی ایک سلور اسکرین کی چمک کے نیچے نسلوں کو متحد کیا تھا۔







