واشنگٹن۔8جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اہم ماحولیاتی معاہدے اور درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت واشنگٹن 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اداروں میں مسلسل شمولیت کو ملک کے …
امریکی صدر کا اقوام متحدہ کے اہم ماحولیاتی معاہدے اور درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان

مزید خبریں
واشنگٹن۔8جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اہم ماحولیاتی معاہدے اور درجنوں بین الاقوامی تنظیموں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت واشنگٹن 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اداروں میں مسلسل شمولیت کو ملک کے مفادات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ان اداروں میں اقوام متحدہ سے منسلک 31 ادارے اور دیگر 35 ادارے شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر امریکی صدر کے اس فیصلے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا جن تمام 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو رہا ہے وہ مُلک کے لیے غیر مؤثر، فضول اور نقصان دہ تھیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ادارے اپنی حدود میں غیر ضروری، ناقص انتظام، فضول خرچی اور کمزور کارکردگی کے حامل ہیں۔ ان اداروں کو ایسے عناصر نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جو امریکی ترجیحات کے خلاف ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ یہ ادارے امریکا کی خودمختاری، آزادی اور خوشحالی کےلئے خطرہ ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکی عوام کا پیسہ ان اداروں کو دینا جن سے اس کے بدلے میں کچھ حاصل نہیں اب قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر غیر ملکی مفادات کی نذر کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ یہ اقدام انتظامیہ کی امریکا فرسٹ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکا ان 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہے جو اب امریکی مفادات میں نہیں۔ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت صدر ٹرمپ نے تمام وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دستبرداری کے فیصلے کو جلد نافذ کرنے کےلئے فوری اقدامات کریں ۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا مطلب شرکت یا فنڈنگ ختم کرنا ہوگا۔میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیرِ خارجہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے جائزے اور کابینہ کے ارکان سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔








