واشنگٹن۔1اگست (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا، برازیل، بھارت اور تائیوان سمیت درجنوں تجارتی شراکت داروں کی برآمدات پر بھاری ٹیرف نافذ کر دیے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی صدر کے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے تحت برازیل کی مصنوعات پر 50 فیصد، سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد، کینیڈا پر 35 فیصد،بھارت پر 25 فیصد اور تائیوان سے مصنوعات پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق …
امر یکا نے درجنوں ممالک کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کردیا، برازیل کی مصنوعات پر 50 فیصد، سوئٹزرلینڈ 39 فیصد، کینیڈا 35 فیصد،بھارت 25 فیصد اور تائیوان کی مصنوعات پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی لاگو

مزید خبریں
واشنگٹن۔1اگست (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا، برازیل، بھارت اور تائیوان سمیت درجنوں تجارتی شراکت داروں کی برآمدات پر بھاری ٹیرف نافذ کر دیے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی صدر کے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے تحت برازیل کی مصنوعات پر 50 فیصد، سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد، کینیڈا پر 35 فیصد،بھارت پر 25 فیصد اور تائیوان سے مصنوعات پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 69 ممالک پر 10 سے 41 فیصد کے درمیان درآمدی ٹیرف سات دن بعد لاگو ہوں گے جبکہ دیگر ممالک سے آنے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیکس نافذ ہو گا، کچھ ممالک نے پہلے ہی ٹیرف میں کمی کے معاہدے کیے ہیں جبکہ کئی کو مذاکرات کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے بعض اشیاء کو درآمدی ڈیوٹی سے ایک ہفتے کے لیے استثنیٰ بھی دیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ مزید تجارتی معاہدے جلد سامنے آئیں گے تاکہ تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بعض تجارتی شراکت دار اگرچہ مذاکرات میں شامل تھے لیکن ان کی پیشکشیں تجارتی عدم توازن کو دور کرنے یا قومی سلامتی کے امور پر امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ ہم نے آج کچھ ایسے معاہدے کیے ہیں جو ملک کے لیے بہت اچھے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدے جلد منظرعام پر آئیں گے۔ایک علیحدہ حکم نامے میں کینیڈا کی ان اشیاء پر جو فینٹانائل سے متعلق ٹیرف میں شامل تھیں، شرح 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کینیڈا غیر قانونی منشیات کی روک تھام میں تعاون کرنے میں ناکام رہا ہے۔دوسری جانب میکسیکو کو 30 فیصد ٹیرف سے 90 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ ایک وسیع تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا وقت مل سکے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ کینیڈا اپنے روزگار کا تحفظ کرے گا اور برآمدی منڈیوں کو متنوع بنائے گا۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری رکھیں گے لیکن ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہے جو ہم کنٹرول کر سکتے ہیں۔بھارت کی برآمدات پر بھی 25 فیصد ٹیرف کا امکان ہے کیونکہ بھارت کے زرعی شعبے تک رسائی پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
ادھر امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ درآمدی ٹیکس کے نتیجے میں صارفین کے لیے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور رواں سال جون میں گھریلو فرنیچر اور آلات کی قیمتوں میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جو مارچ 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔تفریحی اشیاء اور گاڑیوں کی قیمتیں 0.9 فیصد بڑھیں جو فروری 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے جبکہ کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔








