امن عمل کی تشکیل میں پاکستان کی شراکت اور تعمیری کردار کا بڑے پیمانے پر اعتراف کیا جارہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 13 سے 14 اکتوبر تک شرم الشیخ کا اہم سفارتی دورہ کیا۔ جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے ہمراہ کابینہ کے سینئر اراکین …

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 13 سے 14 اکتوبر تک شرم الشیخ کا اہم سفارتی دورہ کیا۔ جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے ہمراہ کابینہ کے سینئر اراکین کے ساتھ اعلیٰ سطحی کثیرالجہتی اقدام میں حصہ لیا جس کا مقصد غزہ میں سنگین انسانی اور سیکورٹی بحران سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن سفارتکاری میں پاکستان کے فعال کردار نے عالمی امن اور انصاف کے لئے پرعزم ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو تقویت دی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امن عمل کی تشکیل میں پاکستان کی شراکت اور تعمیری کردار کا بڑے پیمانے پر اعتراف کیا جارہا ہے جبکہ علاقائی سلامتی اور تعاون کے لئے ایک سرکردہ مسلم ملک کے طور پر پاکستان کا امیج مضبوط کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شرم الشیخ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں برطانیہ کے وزیر اعظم، جرمن چانسلر، ترک صدر، قطر کے امیر، انڈونیشیا کے صدر، کینیڈین وزیر اعظم اور مسلم اور یورپی ممالک کے کئی دیگر رہنمائوں سمیت 30 کے قریب رہنمائوں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ تقریب میں امن معاہدے کے ضامنوں کے طور پر امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی طرف سے دستاویز پر دستخط کرنے کی چار فریقی تقریب شامل تھی۔ ترجمان نے کہا کہ سربراہی اجلاس کے سرکاری شیڈول کے مطابق دستخط کی تقریب کے بعد صرف صدر ٹرمپ اور صدر السیسی نے ہی بیان دینا تھا لیکن ایجنڈے کے برعکس صدر ٹرمپ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو تقریر کی دعوت دی۔ اپنے مختصر خطاب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بہت سے خطوں بالخصوص غزہ میں امن قائم کرنے کے لئے مثالی قیادت فراہم کی۔ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو روکنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔