امیر العظیم نظریاتی کلاس کا ایک درخشندہ ستارے تھے،احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ امیر العظیم نظریاتی کلاس کا ایک درخشندہ ستارے تھے، انہوں نے جو ورثہ چھوڑا وہ اب ناپید ہوتا جا رہا ہے ،دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور درپیش چیلنجز کے تناظر میں ہم سب کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ اپنی سیاسی جدوجہد میں ملک کے استحکام، قومی مفاد اور عوامی بہبود کو اولین …

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ امیر العظیم نظریاتی کلاس کا ایک درخشندہ ستارے تھے، انہوں نے جو ورثہ چھوڑا وہ اب ناپید ہوتا جا رہا ہے ،دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور درپیش چیلنجز کے تناظر میں ہم سب کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ اپنی سیاسی جدوجہد میں ملک کے استحکام، قومی مفاد اور عوامی بہبود کو اولین ترجیح دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سابق سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ امیر العظیم نے جو ورثہ چھوڑا وہ اب ناپید ہوتا جا رہا ہے، ہمارے ہاں سیاسی کارکن تو بڑھ رہے ہیں لیکن نظریاتی کارکن کم ہو رہا ہے، امیر العظیم نظریاتی کلاس کا ایک درخشندہ ستارے تھے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نظریات کو اپنے عمل میں ڈھالیں، میری دعا ہے کہ اللہ تعالی امیرالعظیم کے درجات بلند کرے۔ احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی سیاسی جدوجہد میں ملک کے استحکام کو اولین ترجیح دیں، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہو رہا ہے، امریکہ میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جنگ میں ہر چلنے والا ڈرون اور میزائل تیل کی منڈیوں میں ہلچل مچاتا ہے۔

2022 سے قبل کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم پر چار سال کی آفت نہ آتی تو حالات مختلف ہوتے، انہوں نے کہا کہ بھارت کو ہم نے معرکہ حق میں شکست دی اورہماری مسلح افواج نے روایتی جنگ میں اس کو دھول چٹائی۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نےتعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیرالعظیم ایک عظیم شخصیت اور سید ابوالاعلی مودودی کے افکار کے بہترین داعی تھے، امیر العظیم کے اندر لوگوں کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، انہوں نے خدمت کی بہت اچھی اور اعلی روایات قائم کیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر العظیم کا جنازہ ان کی نیکیوں کی گواہی دے رہا تھا،امیرالعظیم کے والد فضل العظیم ایک شاندار میراث کے شخص تھے، امیر العظیم کے پورے خاندان کے ساتھ میرا ذاتی تعلق تھا ، امیرالعظیم جیل میں تھے کہ اسلامی جمعیت طلبا کے ناظم اعلی منتخب ہوئے اور انہوں نے جیل میں ہی ناظم اعلی کا حلف پڑھا،وہ ہر قربانی دینے کو ہمہ وقت تیار رہتے۔

انہوں نے کہا کہ مقررین نے امیرالعظیم کے بارے میں جو باتیں کیں وہ درست ہیں ،اللہ تعالیٰ یہ تمام گواہیاں ان کے حق میں قبول فرمائے۔ تعزیتی ریفرنس سے پی ایف یوجے(دستور) کے صدر نواز رضا،راجہ جواد، حکیم محمود احمد سہارنپوری، سابق ایم پی اے حنیف چوہدری، سید عمران شبیر، طارق شاہین،ڈاکٹر فاروق عادل، ڈاکٹر فرخ عطا، رائے نیاز سابق ایم ڈی اے پی پی، سینئر صحافی خالد عظیم، فاروق فیصل خان، سلطان سکندر، سابق ایم پی اے پروفیسر وقاص خان، امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاءالدین انصاری، صدرتنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری اور سینئر قانون دان سید منظور گیلانی نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں