کوانٹم ویلی پاکستانی نوجوانوں، اسٹارٹ اپس اور ہائی ٹیک کاروبار کے لیے نئی راہیں کھولے گی،وفاقی وزیر احسن اقبال کا افتتاحی تقریب سے خطاب

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ کوانٹم ویلی پاکستان ’’پاکستان کے جدت اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل‘‘ کا آغاز ملک کو ٹیکنالوجی، جدت اور علم پر مبنی معیشت کی جانب ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔کوانٹم ویلی پاکستان کی افتتاحی تقریب میں کیمبرج انوویشن سینٹر (CIC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم رو، سی آئی سی کے پارٹنر ڈوگن شیرووڈ اور پلگ …

اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ کوانٹم ویلی پاکستان ’’پاکستان کے جدت اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل‘‘ کا آغاز ملک کو ٹیکنالوجی، جدت اور علم پر مبنی معیشت کی جانب ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔کوانٹم ویلی پاکستان کی افتتاحی تقریب میں کیمبرج انوویشن سینٹر (CIC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم رو، سی آئی سی کے پارٹنر ڈوگن شیرووڈ اور پلگ اینڈ پلے کے منیجنگ پارٹنر سینا امیدی نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آج محض ایک منصوبے کا افتتاح نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی سمت کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستانی نوجوانوں کو دنیا کے عالمی مراکزِ جدت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں مدد دے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ 21ویں صدی میں طاقت کا مرکز اب محض جسمانی قوت نہیں بلکہ ذہانت، علم اور تخلیقی صلاحیت ہے۔ وہ ممالک عالمی معیشت میں آگے بڑھیں گے جن کے پاس بہترین خیالات ہوں گے اور جو ان خیالات کو مصنوعات اور خدمات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ملک کے نوجوان صلاحیت اور استعداد کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے ٹیم پاکستان کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کوانٹم ویلی پاکستان پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی اور جدت کے مراکز سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے ایک مربوط ماحولیاتی نظام میں تمام متعلقہ فریقوں کو اکٹھا کرنے کا پلیٹ فارم بنے گی۔ اس اقدام سے اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان میں ہائی ٹیک کاروبار کو فروغ ملے گا۔ تقریب کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور پاکستان کے جدت کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے دو معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ پہلے معاہدے پر کیمبرج انوویشن سینٹر (CIC) اور کوانٹم ویلی پاکستان جبکہ دوسرے معاہدے پر پلگ اینڈ پلے اور کوانٹم ویلی پاکستان نے دستخط کیے۔ احسن اقبال نے ان معاہدوں کو پاکستانی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور جدت، کاروبار اور ہائی ٹیک صنعتوں کی ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو مضبوط اور پائیدار معیشت کا سہارا حاصل ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف یقیناً مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اگر پاکستان نے بے پناہ چیلنجز کے باوجود ایٹمی طاقت بننے کا سفر طے کیا ہے تو عزم، جدت اور اجتماعی قومی کوشش کے ذریعے ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ احسن اقبال نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور پاکستان کو معاشی خودمختاری کی جانب لے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی نوجوان نسل کے لیے ایک مضبوط معاشی مستقبل چاہیے، سڑکوں پر انتشار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے اور پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت تیز کرنے کا ایک لمحہ بھی ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے برآمدات میں اضافے کو مکمل معاشی خودمختاری کے حصول کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے یاد دلایا کہ 2017 میں پاکستان میں ابھرتے ہوئے شعبوں میں متعدد نیشنل سینٹرز قائم کیے گئے تھے، جن میں بگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، آٹومیشن اینڈ روبوٹکس، جی آئی ایس اینڈ اسپیس ٹیکنالوجی، اپلائیڈ میتھمیٹکس اور لائیو اسٹاک اینڈ جینومکس شامل تھے۔ ان مراکز کے ذریعے جامعات کو آپس میں منسلک کرکے قومی ٹیکنالوجی نیٹ ورک تشکیل دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یوران پاکستان کے تحت 2024 میں ملک کے ٹیکنالوجی کے سفر کو مزید تیز کیا گیا۔ ان اقدامات کے ذریعے تشکیل پانے والا ٹیکنالوجی ایکو سسٹم حکومت کے 2035 تک پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی 26 کروڑ آبادی ملک کے لیے ایک بہت بڑا معاشی اثاثہ اور صلاحیت ہے، جبکہ پاکستان کو سالانہ کم از کم 400 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان علم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے لیے لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو محض ملازمت کے متلاشی افراد کے بجائے علم، جدت اور ترقی کے معماروں میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔وفاقی وزیر نے پاکستانی نوجوانوں کو علامہ اقبال کے شاہین قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوانٹم ویلی پاکستان عالمی ٹیکنالوجی اور جدت کے منظرنامے میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔ ہمارا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں نمایاں مقام دلانا ہے۔

احسن اقبال نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور کوانٹم ویلی پاکستان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شراکت داریاں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور اسٹارٹ اپس و ہائی ٹیک کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی جانب اہم قدم ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کوانٹم ویلی پاکستان کا افتتاح محض ایک نئے ادارہ جاتی اقدام کا آغاز نہیں بلکہ ٹیکنالوجی پر مبنی، جدت پسند اور معاشی طور پر بااختیار پاکستان کی جانب ایک وسیع تر سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔