انسانی حقوق گروپ کی ابو صفیہ سمیت ایک درجن فلسطینی ڈاکٹروں بارے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اسرائیلی جواب پر تنقید

انسانی حقوق گروپ’’ فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل‘‘ نے معروف فلسطینی ڈاکٹر ابو صفیہ سمیت ایک درجن سے زائد دیگر فلسطینی ڈاکٹروں کے بارے میں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اسرائیلی جواب پر تنقید کی ہے

تل ابیب۔10جولائی (اے پی پی):انسانی حقوق گروپ’’ فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل‘‘ نے معروف فلسطینی ڈاکٹر ابو صفیہ سمیت ایک درجن سے زائد دیگر فلسطینی ڈاکٹروں کے بارے میں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اسرائیلی جواب پر تنقید کی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق فلسطینی چائلڈ سپیشلسٹ ابو صفیہ دسمبر 2024 سے اسرائیل میں کسی بھی مقدمے کے بغیر قید کاٹ رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ نے بھی انہیں رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ ’’ فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل‘‘نے گزشتہ روز بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی عدالت نے اس امر کو نظر انداز کیا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے اتنے طویل عرصے سے قید میں ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی انہیں جیل میں قید رکھنے پر اصرار جاری ہے حتیٰ کہ ان کے ساتھ جیل میں سلوک کو بھی نہیں دیکھا گیا ہے۔ تنظیم نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست اصل حقائق کے انکار کی کیفیت میں چلی آرہی ہے اس لیے ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل کے دلائل کو بھی مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ نے اسرائیلی ریاست کو حکم دیا ہے ڈاکٹر ابو صفیہ کی صحت سے متعلق حقائق کو دیکھے۔ اسرائیلی ریاست نے سماعت میں مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کا خیال رکھا گیا ہے، جیل میں ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ 24جون کو جب سے انہیں نتزان جیل کے راکفیٹ ونگ میں رکھا گیا ہے ان کو کئی بار میڈیکل سٹاف نے دیکھا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اسرائیلی جواب میں بتایا نہیں گیا ہے کہ ان کا طبی معائنہ کہاں کیا گیا۔ کس ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کیا اور ڈاکٹر کی رپورٹ میں انہیں کیسا پایا گیا نیز جن زخموں کو ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل عودہ نے ذکر کیا ہے ان کے بارے بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق گروپ نے حال ہی میں ڈاکٹر ابو صفیہ کے وکیل کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے، رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ابو صفیہ کے سر اور گردن میں گہرے زخم ہیں حتیٰ کہ انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست نے عدالت کے سامنے انتہائی بنیادی اور اہم سوالوں کا ہی جواب نہیں دیا ہے۔ حقیقت یہ کہ اسرائیل ڈاکٹر ابو صفیہ اور ان کے وکیل کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کا بھی جواب نہیں دے پائی ۔جیل حکام نے ڈاکٹر ابو صفیہ کا جیل کے دوران کا طبی ریکارڈ بھی عدالت کے سانے پیش نہیں کیا ہے۔ حالانکہ اس کے لیے باضابطہ درخواست کی گئی تھی لہذا اسرائیلی ریاست نے کوئی ٹھوس معلومات نہیں دی ہیں۔ ’’فزیشنز فار ہیومن رائٹس‘‘نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کے ساتھ دیگر 14 زیر حراست ڈاکٹروں کو بند رکھنے کا کوئی جواز ثابت نہیں کر سکی ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو اسرائیلی حکام نے جیل میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے اور ان پر بار ہا بار تشدد کیا جا چکا ہے جس کے باعث جیل میں ان کی حالت انتہائی خراب ہے، جیسا سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران ان کی وائرل ہونے والی وڈیو سے بھی صاف دکھتا ہے کہ ان کی حالت اچھی نہیں ہے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ہسپتال میں موجود نوزائیدہ فلسطینی بچوں کا علاج اسرائیلی فوج کے منع کرنے کے باوجود جاری رکھا تھا۔ ایک چائلڈ سپیشلسٹ کے اسی جرم کو اسرائیلی فوج نے فلسطینی عکسریت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق کا نام دے دیا۔ جیل میں قید اس ڈاکٹر نے اپنے وکیل کو بتایا کہ انہیں بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر ابو صفیہ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام انہیں جیل میں قتل کر دیں گے۔