انسانی وسائل اور مہارتوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل کی ترقی کی بنیاد ہے،وفاقی وزیر منصوبہ بندی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے، انسانی وسائل اور مہارتوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل کی ترقی کی بنیاد ہے جبکہ تعلیم، صحت، غذائیت، صاف پانی اور آبادی کے توازن کو قومی ہنگامی ترجیحات قرار دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے، انسانی وسائل اور مہارتوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل کی ترقی کی بنیاد ہے جبکہ تعلیم، صحت، غذائیت، صاف پانی اور آبادی کے توازن کو قومی ہنگامی ترجیحات قرار دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت گیارہ قومی اقتصادی مشنز میں سے ساتویں مشن ’’انسانی وسائل اور مہارتوں کا فروغ‘‘ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے کئی بار ترقی کے منصوبے بنائے، تاہم سیاسی عدم استحکام کے باعث پالیسیوں کا تسلسل متاثر ہوا۔

آج ہمارے سامنے یہ فیصلہ کن سوال ہے کہ 2047 میں آزادی کی سو سالہ تکمیل کے موقع پر پاکستان کہاں کھڑا ہوگا، ہمیں معرکہ حق کی طرح معرکہ ترقی بھی جیتنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب صرف منصوبے بنانے کا وقت نہیں بلکہ ان پر موثر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا، بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ موثر عمل درآمد ہی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی ضمانت بن سکتا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کا کام بہترین تحقیق پر مبنی منصوبہ بندی فراہم کرنا ہے جبکہ عمل درآمد متعلقہ محکموں اور صوبائی حکومتوں نے کرنا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کا مقصد سماجی شعبوں میں بہتری لانا تھا تاہم اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہونے کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے انتظامی اصلاحات کرنا ہوں گی اور ضلع کی سطح پر بااختیار محکمے قائم کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبائی سیکرٹری پورے صوبے کے مسائل موثر انداز میں حل نہیں کرسکتا اس لیے اختیارات کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا ہوگا۔

صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں گورننس ریفارمز لائیں اور بہترین صلاحیتوں کے حامل افسران تعینات کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی شرح خواندگی 63 فیصد ہے اور اس سطح کی شرح خواندگی کے ساتھ ملک مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کرسکتا۔ تعلیم، صحت، غذائیت، صاف پانی اور آبادی کے توازن جیسے مسائل سڑکوں اور عمارتوں سے زیادہ اہم ہیں اور انہیں قومی ایمرجنسی کے طور پر لینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، آبادی میں اضافہ معاشی ترقی کی کوششوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

سماجی اشاریوں میں نمایاں بہتری کے لیے کم از کم دس سال کا مسلسل اور مربوط نظام درکار ہے جبکہ سیاسی استحکام کے بغیر طویل المدتی سماجی اور معاشی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ کے گیارہ قومی اقتصادی مشنز کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اسی عزم، محنت اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے جس کا پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کی تکمیل میں مظاہرہ کیا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسانی وسائل اور مہارتوں کے فروغ پر توجہ دے کر پاکستان کی نوجوان آبادی کو قومی ترقی کی موثر قوت میں تبدیل کیا جائے گا۔