اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے اپنی بین الاقوامی روابط کو مزید وسعت دیتے ہوئےمشرقِ وسطیٰ کے اردن میں قائم تھنک ٹینک عرب تھاٹ فورم (اے ٹی ایف) کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر سہیل محمود اور اے ٹی ایف کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر …
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد نے عرب تھاٹ فورم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کردیئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے اپنی بین الاقوامی روابط کو مزید وسعت دیتے ہوئےمشرقِ وسطیٰ کے اردن میں قائم تھنک ٹینک عرب تھاٹ فورم (اے ٹی ایف) کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر سہیل محمود اور اے ٹی ایف کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر الصادق محمد الفقیہ کے درمیان طے پایا۔ آن لائن تقریب میں آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (CAMEA) کی ڈائریکٹر آمنہ خان اور پاکستان کے نائب سربراہِ مشن برائے عمان ڈاکٹر شکیب رفیق سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔
آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر سہیل محمود نے اپنی گفتگو میں عرب تھاٹ فورم کے بانی اور چیئرمین شہزادہ الحسن بن طلال کے دانشمندانہ نقطہ نظر کو سراہا، جنہوں نے عرب دنیا سے متعلق اسٹریٹجک اہمیت کے مختلف موضوعات پر تحقیق اور مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا علاقائی ادارہ قائم کیا۔ انہوں نے پاکستان کے سفارتخانے عمان کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے دونوں تھنک ٹینکس کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کے قیام میں سہولت فراہم کی۔سفیر سہیل محمود نے پاکستان اور عرب دنیا، خصوصاً اردن، کے درمیان طویل المدتی تاریخی، ثقافتی، اور سفارتی تعلقات کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ تعلقات تحقیق اور علمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعاون کے وسیع میدان موجود ہیں جو نہ صرف علمی تبادلے کو فروغ دیں گے بلکہ دونوں برادر ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو بھی مضبوط کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری دونوں اداروں کو باہمی فہم بڑھانے اور مشترکہ اہداف کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔اپنے خطاب میں عرب تھاٹ فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر الصادق الفقیہ نے پاکستان اور اردن سمیت عرب ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کو یاد کیا۔
انہوں نے مختلف مواقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی متعدد مثالیں بیان کیں اور کہا کہ پاکستان کا عرب اور مسلم دنیا میں خصوصی مقام اور حیثیت ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر اے ٹی ایف نے پاکستان کے ممتاز تحقیقی ادارے کے ساتھ شراکت داری میں دلچسپی لی۔ ڈاکٹر الفقیہ نے اس یادداشت کے تحت عملی تعاون کے طریقہ کار وضع کرنے اور باہمی روابط کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس سے قبل، آمنہ خان نے اپنے ابتدائی کلمات میں اس ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی جو دو طرفہ اور علاقائی امور پر مشترکہ تحقیق کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
ڈاکٹر شکیب رفیق نے تحقیق سے ہٹ کر تعاون کے کئی دیگر امکانات پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا سفارتخانہ دونوں اداروں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان اور عرب دنیا کی علمی و تحقیقی برادری کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ آئی ایس ایس آئی اور اے ٹی ایف کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا مرکزی عنصر تحقیق، فیلڈ اسٹڈی، پیشہ ورانہ تربیت، نظریات کے تبادلے، اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تجربات کی شراکت کے لیے ماہرین اور عہدیداران کا تبادلہ ہے۔ مشترکہ سائنسی تحقیق، تقاریب، اور مطبوعات کے تبادلے بھی تعاون کے اس فریم ورک کا حصہ ہوں گے۔








