اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں انڈیا سٹڈی سنٹر (آئی ایس سی) نے "پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات اور علاقائی تعاون" کے عنوان سے ایک گول میز اجلاس کا اہتمام کیا۔ گول میز اجلاس میں میجر جنرل (ر) فضل الٰہی اکبر، چیئرمین فائونڈیشن فار سٹریٹجک اینڈ ڈویلپمنٹ سٹڈیز، بنگلہ دیش نے بطور معزز سپیکر شرکت کی ۔ منگل کو جاری ایک بیان …
انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں "پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات اور علاقائی تعاون” کے عنوان سے گول میز اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں انڈیا سٹڈی سنٹر (آئی ایس سی) نے "پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات اور علاقائی تعاون” کے عنوان سے ایک گول میز اجلاس کا اہتمام کیا۔ گول میز اجلاس میں میجر جنرل (ر) فضل الٰہی اکبر، چیئرمین فائونڈیشن فار سٹریٹجک اینڈ ڈویلپمنٹ سٹڈیز، بنگلہ دیش نے بطور معزز سپیکر شرکت کی ۔ منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق اجلاس میں سابق سفارت کاروں، پریکٹیشنرز، ماہرین تعلیم اور علاقے کے ماہرین نے شرکت کی۔
شرکا ءنے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاسی حرکیات میں مواقع اور چیلنجز اور علاقائی تعاون کے فروغ کی ممکنہ مستقبل کی شکل کا جائزہ لیا۔شرکا ءنے برادرانہ تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کو سراہتے ہوئے روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر مستقبل پر مبنی نقطہ نظر اور باہمی تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت سے عوام کی سطح تک پیداواری، کثیر شعبہ جاتی مصروفیات میں امید افزاء پیش رفت کو سراہا۔
شرکا نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ تاریخی اور ثقافتی جڑیں، مشترکہ مفادات اور اسی طرح کے چیلنجز مستقبل کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ تجویز کیا گیا تھا کہ عوام سے عوام کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کو براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنی چاہئیں۔ سفری رکاوٹوں میں مزید آسانی، تجارت کو متنوع بنانا، دو طرفہ سیاحت کو فروغ دینا،ثقافتی تعاون کی حوصلہ افزائی، نوجوانوں کو آپس میں ملانا، تعلیمی اور تھنک ٹینک کے تبادلے کو کھولنا اور مختلف شعبہ جات میں ایک دوسرے کے تجربے اور مہارت سے سیکھنے کے لئے اقدامات کرنا چاہیئں۔
شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں اس نقطہ نظر میں شریک ہیں کہ علاقائی تعاون کو مزید کسی ایک ملک کی خواہشات کا یرغمال نہیں رہنے دیا جا سکتا۔ کثیر قطبی عالمی نظام میں تیزی سے عالمی تبدیلی کے لیے اس خطے کو مل جل کر آگے بڑھنے اور اقتصادی انضمام اور رابطے کے طریقوں کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ دونوں ممالک کی قیادتوں نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ علاقائی تعاون اب بھی ضروری ہے اور سارک کا احیاء ضروری ہے۔ ایک ہی وقت میں متعدد شعبوں میں علاقائی تعاون کے امکانات کو فعال طور پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
حالیہ بنگلہ دیش،چین،پاکستان سہ فریقی ایک اختراعی قدم تھا اور اسے مختلف دیگر جیومیٹریوں میں نقل کیا جا سکتا ہے۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سلامتی، ترقی اور علاقائی تعاون کے ڈھانچے کے حوالے سے جنوبی ایشیا کا دوبارہ تصور کرنا اب ناگزیر ہے۔








