انقرہ میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام یومِ دفاع اور شہداء کی یاد میں استقبالیہ، ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یاسر گولر مہمانِ خصوصی
انقرہ میں پاکستانی سفارتخانے میں یوم دفاع پاکستان کی تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):انقرہ میں پاکستانی سفارتخانے نے یوم دفاع اور شہداء کی یاد میں ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا جس کے مہمان خصوصی ترکیہ کے وزیر قومی دفاع یاسر گولر تھے۔
استقبالیہ میں ترک جنرل اسٹاف کے کمانڈر جنرل سیلکوک بایراکتار اوغلو، ترک لینڈ فورس کے کمانڈر جنرل میتن توکل، ترک نیول فورس کے کمانڈر ایڈمرل ایرکیومینت تتلی اوگلو اور ترک فضائیہ کے کمانڈر جنرل رافت دالکیران، سابق نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ صحت علی اوضل نے شرکت کی۔ ہفتہ کو یہاں موصولہ پریس ریلیز کے مطابق تقریب میں سیکرٹری جنرل ڈی 8 سہیل محمود، ملٹری اتاشی، سینئر ترک حکام ، پاکستانی کمیونٹی کے ارکان اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے اپنے خطاب میں پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی کی جرات، لچک اور اتحاد کو اجاگر کیا۔انہوں نے قومی دفاع، قدرتی آفات سے نمٹنے اور اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات اور قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے امن کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے جو اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور جموں و کشمیر کے عوام کی آزادانہ خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں تلاوت قرآن پاک، پاکستان اور ترکیہ کے قومی ترانے، پاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ (PEISG) کے طلباء کی پرفارمنس اور یوم دفاع و شہدا کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ویڈیو پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔دفاعی وفضائی اتاشی ائیر کموڈور محمد آصف بھٹی نے اپنے خطاب میں 6 ستمبر 1965 کو دفاع پاکستان کے دوران پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی جرات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم پر زور دیتے ہوئے امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترک وزیر یاسر گلر نے یوم دفاع و شہدا پر پاکستانی عوام کو مبارکباد دی اور پاکستان کے شہداء اور سابق فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہرے تاریخی رشتوں اور پائیدار بھائی چارے پر زور دیا اور پاکستان بطور سٹریٹجک پارٹنر کردار کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے دفاع اور سلامتی میں بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔ترک وزیر نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کو مضبوط اسٹریٹجک تعاون، اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی استحکام کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا۔







