محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں انٹرنیشنل کاٹن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کاٹن کانفرنس میں امریکہ، چین اور مقامی سائنسدانوں کے پیش کئے گئے تجربات سے شرکا کو سیکھنے کا موقع ملا۔اس فورم سے کپاس کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ان کے موثر حل کے لیے مدد ملے گی۔اس …
انٹرنیشنل کاٹن کانفرنس میں امریکہ، چین اور مقامی سائنسدانوں کے پیش کئے گئے تجربات سے شرکا کو سیکھنے کا موقع ملا، افتخار علی سہو
لاہور۔10جون (اے پی پی):محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں انٹرنیشنل کاٹن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کاٹن کانفرنس میں امریکہ، چین اور مقامی سائنسدانوں کے پیش کئے گئے تجربات سے شرکا کو سیکھنے کا موقع ملا۔اس فورم سے کپاس کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ان کے موثر حل کے لیے مدد ملے گی۔اس فورم پر ملکی و بین الاقوامی سائنسدانوں کی جانب سے پیش کی جانے والی قابل عمل تجاویز کپاس کی مینجمنٹ ایڈوائزری میں شامل کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی بہتری کے لیے ایسی بین الاقوامی کانفرنسز کا باقاعدگی سے انعقاد جاری رہنا چاہیے۔ماہرین کپاس کی بہتر پیداوار کے حصول کے لیے کیلنڈر سرگرمیاں مرتب کریں۔سائنسدان کپاس کی کلائمیٹ سمارٹ اقسام دریافت کریں، مکینیکل ہارویسٹنگ کی حامل نئی اقسام کی دریافت وقت کی اہم ضرورت ہے۔کپاس کی بہترین مینجمنٹ میں حالیہ قیمتوں میں اضافہ کا اہم کردار ہوگا۔کانفرنس میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر زرعی یونیورسٹی ملتان پاکستان کی جانب سے ملک کے پہلے آن لائن کپاس کے بنیادی ڈیٹا بیس کا افتتاح بھی کر دیا گیا، جسے ماہرین نے جینیاتی کپاس تحقیق، بہتری اور نئی اقسام کی تیاری کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ اس سال پاکستان کا سب سے بڑا زرعی چیلنج کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط قومی حکمتِ عملی ضروری ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل گرین پاکستان انیشئیٹوز میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے فوری طور پر ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز، اسمارٹ مشینری، پریسیژن سیڈرز اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کو عملی طور پر نافذ کیا جائے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر کٹر ڈیوس نے کہا کہ کپاس کی بہتری کے لیے فوری طور پر نیشنل کپاس ہیلتھ سرویلنس نیٹ ورک قائم کیا جائے جو بیماریوں، کیڑوں اور مزاحمتی رجحانات کی مسلسل نگرانی کرے۔ڈاکٹر البرٹ سانتوس نے کہا کہ کپاس کی عالمی مسابقت میں سب سے اہم عنصر فائبر کوالٹی ہے، لہذا پاکستان کو فوری طور پر جدید HVI لیبارٹریز قائم کرنا ہوں گی۔ڈاکٹر اقبال بندیشہ نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، بیماریوں اور کیڑوں کا بڑھتا ہوا دبا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلابی سنڈی، سفید مکھی اور کپاس کے وائرس کے خلاف مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ماہرین نے مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں کپاس کی بحالی صرف فوری، عملی اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے تجربات سے سیکھ کر پاکستان اپنیزرعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر سکتا ہے، بصورت دیگر کپاس کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔









