اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے پیر کو ایچ-9 دفتر میں عوامی فورم (کھلی کچہری) کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو براہِ راست رسائی فراہم کرتے ہوئے شفافیت، جوابدہی اور عوامی سہولت کاری کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ فورم کا انعقاد اس مرکزی پیغام ’’آپ کی آواز، آپ کے مسائل — براہِ راست متعلقہ حکام تک‘‘کے تحت کیا گیا۔اس عوامی …
انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کا کھلی کچہری کا انعقاد ، شفاف، جوابدہ و عوام دوست نظام کے عزم کا اظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) نے پیر کو ایچ-9 دفتر میں عوامی فورم (کھلی کچہری) کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو براہِ راست رسائی فراہم کرتے ہوئے شفافیت، جوابدہی اور عوامی سہولت کاری کو مزید مؤثر بنانا تھا۔ فورم کا انعقاد اس مرکزی پیغام ’’آپ کی آواز، آپ کے مسائل — براہِ راست متعلقہ حکام تک‘‘کے تحت کیا گیا۔اس عوامی فورم کی صدارت ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کی جبکہ کمیشن کے ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔
ملک بھر سے عوام کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے اس فورم کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔عوامی فورم طلبہ، والدین اور دیگر متعلقہ فریقین کے لئے ایک کھلا، شمولیتی اور مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا جہاں شرکاء نے آئی بی سی سی کی خدمات سے متعلق اپنے سوالات، شکایات اور تجاویز براہِ راست پیش کیں۔ پاکستان بھر میں قائم آئی بی سی سی کے علاقائی دفاتر سے وابستہ نمائندگان نے بھی آن لائن شرکت کی جس سے قومی سطح پر جامع نمائندگی ممکن ہوئی۔ تمام معاملات کا موقع پر ہی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سینئر انتظامیہ نے تفصیلی اور تسلی بخش جواب دیا جو عوامی خدمت کے حوالے سے آئی بی سی سی کے مسئلہ حل کرنے والے اور سہولت کار طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی ملاح نے آئی بی سی سی ایکٹ 2023ء کے تحت کمیشن کے قانونی مینڈیٹ، کردار اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور ادارے کے اصلاحاتی سفر کا جامع خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی بی سی سی پاکستان میں امتحانات، تعلیمی اسناد اور تعادُلِ اسناد کے حوالے سے اعلیٰ ترین رابطہ کاری اور نگران ادارہ ہے جو امتحانی معیار، ادارہ جاتی گورننس، ڈیجیٹل نظامات اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی اسناد کی شناخت کے فروغ کے لئے سرگرم عمل ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ آئی بی سی سی ملک بھر میں ماڈل تشخیصی فریم ورک کے نفاذ، امتحانی پیشہ ور افراد کی منظم استعداد سازی، اور ون ونڈو ڈیجیٹل تصدیق، توثیق اور تعادُلِ اسناد نظام کے اجراء جیسے اہم اقدامات پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد شفافیت میں اضافہ، خدمات کی رفتار بہتر بنانا اور عوامی اعتماد کو مستحکم کرنا ہے۔انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ آئی بی سی سی غیر ملکی تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری نگرانی، ٹیکنالوجی پر مبنی امتحانی اصلاحات، طلبہ دوست قومی سطح کے اقدامات، اور پاکستانی تعلیمی اسناد کو بین الاقوامی تعلیمی فریم ورکس سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مؤثر حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے تاکہ طلبہ کی عالمی سطح پر تعلیمی و پیشہ وارانہ نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے عوام سے کھلے دل کے ساتھ رائے اور تنقید پیش کرنے کی اپیل کی اور یقین دہانی کرائی کہ تعمیری تجاویز کی روشنی میں نظام کو مزید مربوط، طریقۂ کار کو مؤثر اور خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔فورم کے دوران شرکاء کی جانب سے بھرپور دلچسپی اور فعال شرکت دیکھنے میں آئی۔ درخواست گزاروں نے اعلیٰ قیادت تک براہِ راست رسائی، مسائل کے فوری حل، اور آئی بی سی سی کے دفاتر میں فراہم کردہ پیشہ وارانہ مگر خوشگوار ماحول کو سراہا۔
متعدد شرکاء نے عوامی سہولت کاری کو مزید بہتر بنانے کے لئے قابلِ عمل تجاویز پیش کیں جنہیں آئی بی سی سی کی قیادت نے نہ صرف خوشدلی سے سراہا بلکہ آئندہ بہتری کے لئے قابلِ غور قرار دیا۔یہ عوامی فورم آئی بی سی سی کے گورننس فریم ورک میں عوامی شمولیت کو باضابطہ اور ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس موقع پر آئی بی سی سی نے ایک مؤثر نگران ادارے، سہولت کار اور اصلاحاتی محرک کے طور پر اپنے کردار کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کمیشن پاکستان میں ایک معتبر، منصفانہ اور جوابدہ امتحانی نظام کے قیام کے لئے عوام کو اپنی اصلاحاتی حکمتِ عملی کا محور بنائے گا اور شہریوں کی آواز پر بروقت اور مؤثر ردِعمل دیتا رہے گا۔








