انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے زمین صاف کرنے کے لیے جھاڑیوں اور جنگلات کو آگ لگانے والوں کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے اور کڑی سزائیں دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ملک کئی ہفتوں سے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ بھڑکانے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ

مزید خبریں
جکارتہ ۔17ستمبر (اے پی پی):انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے زمین صاف کرنے کے لیے جھاڑیوں اور جنگلات کو آگ لگانے والوں کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے اور کڑی سزائیں دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ملک کئی ہفتوں سے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق صدر پرابوو نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ جنگلات میں آگ لگانے کے ذمہ دار افراد یا کمپنیوں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ریاستی سیکریٹری اور وزیر قانون کو قانونی سزاؤں کے معاملے کا مزید جائزہ لینے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے قوانین مزید سخت کرنے اور جنگلات میں جان بوجھ کر آگ لگانے کے عمل کو ’’ماحولیاتی دہشت گردی‘‘ قرار دینے پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
صدر نے علاقائی حکومتوں کو چھوٹے کاشتکاروں کو محدود رقبے پر زمین صاف کرنے کے لیے آگ استعمال کرنے کی حاصل رعایتیں فوری ختم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے پولیس سے کہا کہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کی جائیں۔انڈونیشیا نے آگ پر قابو پانے کے لیے 50 سے زیادہ طیارے تعینات کیے ہیں، جو پانی پھینکنے اور مصنوعی بارش کے آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔ جاپان نے بھی بدھ کو ان کارروائیوں میں شمولیت اختیار کی۔ جاپان نے گزشتہ ہفتے 3 سے زائد سی ایچ-47 چنوک ہیلی کاپٹر انڈونیشیا بھیجے تھے، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث ان کی کارروائیوں میں شرکت مؤخر ہوگئی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی تک تقریباً 2 لاکھ 2 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلات کی آگ سے متاثر ہوا، جبکہ ماحولیاتی تنظیم وائی کے اے این کے اندازے کے مطابق اگست میں مزید 6 لاکھ ہیکٹر رقبہ آگ سے متاثر ہوا۔وزیر جنگلات راجا جولی انتونی نے خبردار کیا ہے کہ جنگلات کی آگ نومبر کے آغاز تک جاری رہ سکتی ہے کیونکہ بارشوں کا موسم متوقع وقت سے تاخیر سے شروع ہونے کا امکان ہے۔








