انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کی رپورٹ میں انسداد پولیو کے لیےحکومت پاکستان کے عزم کا اعتراف

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):بین الاقوامی تنظیم انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کی رپورٹ میں انسداد پولیو کے لیےحکومت پاکستان کے عزم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس عزم کا آغاز وزیر اعظم کی اس حوالہ سے اقدامات میں براہِ راست شمولیت سے ہوتا ہے اور یہ عمل صوبائی و ضلعی انتظامیہ تک پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسداد پولیو کے لئے …

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):بین الاقوامی تنظیم انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کی رپورٹ میں انسداد پولیو کے لیےحکومت پاکستان کے عزم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس عزم کا آغاز وزیر اعظم کی اس حوالہ سے اقدامات میں براہِ راست شمولیت سے ہوتا ہے اور یہ عمل صوبائی و ضلعی انتظامیہ تک پھیلا ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے انسداد پولیو کے لئے مضبوط قیادت کا مظاہرہ کیا ہے جس میں وزیرِ اعظم ذاتی طور پر سٹاک ٹیک سیشنز کی صدارت کرتے ہیں، صوبائی حکام روزانہ کی بنیاد پر مہم کے جائزے کی نگرانی کرتے ہیں اور ضلعی کمشنرز فرنٹ لائن خدمات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ یہ مشترکہ قیادت پاکستان اور دنیا کے لیے پولیو سے پاک مستقبل کے ہدف کے حصول میں حکومت پاکستان کی صلاحیت پر اعتماد کی عکاس ہے۔

رپورٹ میں اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پروگرام نے ستمبر 2024ء سے جولائی 2025ء تک بڑے پیمانے کی 6 مہمات کے ذریعے پولیو وائرس کے پھیلائو کو روکنے اور قوت مدافعت کے خلا کو پُر کرنے کی نمایاں کوششیں کیں، اس کے علاوہ افغانستان کے ساتھ ہم آہنگ 4 مہمات کے ذریعے سرحد پار تعاون کو فروغ دیا، مہمات کے معیار میں منظم بہتری کی اور سکیورٹی کے مسائل والے علاقوں میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔

آئی ایم بی کے ماہرین نے پروگرام کی ان کوششوں کو بھی اجاگر کیا ہے جن کے تحت زیرو ڈوز بچوں کے ڈیٹا کو ڈیجیٹلائز کیا گیا اور کمیونٹی پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو شامل کر کے جنوبی خیبر پختونخوا کے پہلے سے ناقابل رسائی علاقوں میں مہمات کا انعقاد کیا گیا، اسی طرح، کوئٹہ بلاک اور پنجاب و بلوچستان کے دیگر حصوں میں مثبت ماحولیاتی نمونوں میں کمی کو بھی نمایاں کیا گیا تاہم آئی ایم بی کی رپورٹ پروگرام سے یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ وہ کراچی، لاہور، وسطی پاکستان اور جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی منتقلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرے۔

رپورٹ میں اہم چیلنجز کو بھی اجاگر کیا گیا ہے جن میں لاہور میں مقامی گردش، کراچی میں آبادی کی نقل و حرکت کے ایسے نمونے جو پولیو ویکسی نیشن کی مکمل کوریج میں رکاوٹ بنتے ہیں، بلوچستان میں حفاظتی ٹیکوں کی کم شرح اور سرحد پار نقل و حرکت کے ذریعے وائرس کی گردش شامل ہیں۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں ملک میں جاری سیلابی صورتحال کے پیش نظر پولیو وائرس کے ممکنہ پھیلائو کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

اس حوالے سے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پولیو پروگرام آئی ایم بی کی سفارشات کا تجزیہ کر رہا ہے اور انہیں اپنی سٹریٹجک منصوبہ بندی میں شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی ، تجزیاتی طریقے اور خطرات کا اندازہ لگانے کے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ بہتر اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے کیے جا سکیں۔

یہ طریقے آبادی کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے، حفاظتی خلا کی نشاندہی کرنے اور ممکنہ خطرات کا پہلے سے اندازہ لگانے میں مدد دے رہے ہیں جس سے تیز اور موثر ڈیٹا پر مبنی ردعمل ممکن ہو رہا ہے۔پ

پولیو ٹیمیں ہائی رسک علاقوں میں تمام چھوٹے بچوں تک پہنچنے کے لیے مربوط خدمات کی فراہمی انٹیگریٹڈ سروس ڈیلیوری (آئی ایس ڈی) کے ذریعے جدید حکمت عملیوں پر عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ اقدامات ویکسی نیشن کے ساتھ غذائیت، بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور پانی، صفائی اور حفظان صحت (واش) کی سہولیات کو یکجا کرتے ہیں جس سے خاندانوں کو فوری فوائد حاصل ہوتے ہیں اور ویکسی نیشن کے راستے میں موجود رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ مربوط خدمات کی فراہمی صحت، تعلیم، اور مقامی حکومت کے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی وسیع سطح پر شمولیت کو بھی فروغ دیتی ہے جس سے مہمات زیادہ جامع اور کمیونٹی کی ضروریات کے مطابق بنتی ہیں۔

سکیورٹی کے چیلنجز والے علاقوں میں، پروگرام کمیونٹی کی قیادت میں ویکسی نیشن مہم جاری رکھے ہوئے ہے جس میں مقامی اثرورسوخ رکھنے والوں کے اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ اپنے علاقوں میں مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس اقدام کے نتیجے میں جنوبی خیبرپختونخوا کے پہلے ناقابل رسائی علاقوں میں 83 فیصد بچے جو ویکسین سے محروم تھے، تک پہنچا جا سکا ہے۔ اس کے علاوہ، کمیونٹی کی تحفظات دور کرنے کے لیے آگاہی اور مباحثے بھی جاری ہیں۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال ذاتی طور پر ان علاقوں میں آگاہی مہم کی قیادت کر رہے ہیں جہاں بچوں کی ویکسی نیشن سے انکار کیا گیا ہے۔معمول کے حفاظتی ٹیکے جات (آر آئی) کی کم کوریج خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں، کے چیلنج کو تسلیم کرتے ہوئے، پروگرام روٹین ویکسی نیشن کی شرح بڑھانے اور قوت مدافعت کے خلا کو پر کرنے کے لیے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے۔

یہ اقدامات پولیو کے خلاف پیش رفت کو برقرار رکھنے اور صحت کے مضبوط نظام کے قیام میں معاون ثابت ہوں گے۔آگے بڑھتے ہوئے، نیشنل ٹاسک فورس نے آئندہ کم منتقلی والے سیزن کے اختتام تک پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ایک مفصل روڈ میپ کی منظوری دی ہے۔

اس روڈ میپ میں مستقل ہائی رسک علاقوں میں ہدفی مہمات، معمول کے حفاظتی ٹیکے جات (آر آئی) اور مربوط خدمات کی فراہمی (آئی ایس ڈی) کے درمیان گہرا تعاون اور رسائی اور قبولیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید آپریشنل ماڈلز کو ترجیح دی گئی ہے۔

صفر کیسز کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت، شراکت داروں، کمیونٹیز اور فرنٹ لائن ورکرز سمیت تمام سطحوں پر اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ منصوبے عملی نتائج میں تبدیل ہو سکیں۔

پاکستان پولیو پروگرام عالمی اور علاقائی سطح پر پولیو کے عوامی خطرے کے خاتمے کے لیے آئی ایم بی اور شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے تاکہ ہمارے بچوں اور پوتے پوتیوں کے لیے ایک صحت مند اور پولیو سے پاک مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں