روزمرہ زندگی میں مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوان اکثر ان مسائل کے عملی حل کی بہتر نشاندہی کر سکتے ہیں، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا ’’یوتھ آئیڈییشن لیب‘‘کے افتتاح کے موقع پر خطاب

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے نوجوانوں کی ذہانت، صلاحیتوں اور عملی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش قومی چیلنجز کے قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے لیے ’’یوتھ آئیڈییشن لیب‘‘ کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے نوجوانوں کی ذہانت، صلاحیتوں اور عملی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش قومی چیلنجز کے قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے لیے ’’یوتھ آئیڈییشن لیب‘‘ کا افتتاح کر دیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یوتھ آئیڈییشن لیب کا مقصد نوجوانوں کو محض شکایت کرنے والوں کے بجائے مسائل کی نشاندہی اور ان کے عملی حل تجویز کرنے والے فعال کردار میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف شکایت کرکے مسئلہ حل نہیں کر سکتے، ہمیں خود اسے حل کرنا ہوگا، نوجوانوں کو مسائل کا حصہ بننے کے بجائے ان کے حل کا حصہ بننا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی بنیادی ذمہ داری ملک کے مستقبل کی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پروگراموں کی تیاری ہے تاہم ان پروگراموں کی مؤثریت کا انحصار اس نسل کی شمولیت اور ملکیت پر ہے جو ان فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز ملک کے نوجوان ہیں کیونکہ یہ ان کا مستقبل ہے جو داؤ پر لگا ہوا ہے۔ نوجوانوں کو ملک کے ترقیاتی بیانیے اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی آرا اور خواہشات کو مناسب اہمیت دینا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یوتھ آئیڈییشن لیب نوجوانوں کی ذہانت اور صلاحیتوں کو یکجا کرنے اور پاکستان کے بعض پیچیدہ مسائل کے عملی حل کے لیے قابلِ عمل خیالات پیدا کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ شرکا کو محض لیکچرز سننے یا نشستیں پُر کرنے کے لیے مدعو نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ملک کو درپیش مسائل پر اپنی آرا پیش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف پریزنٹیشنز نہیں بلکہ قابلِ عمل خیالات اور حل درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عملی دانش اور مسائل کے براہ راست تجربے رکھنے والے عام افراد سے بھی مفید اور مؤثر خیالات سامنے آ سکتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ روزمرہ زندگی میں مختلف مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوان اکثر ان مسائل کے عملی حل کی بہتر نشاندہی کر سکتے ہیں۔ یوتھ آئیڈییشن لیب انہیں اپنے تجربات اور خیالات کو قومی ترقی میں تعمیری کردار میں ڈھالنے کا موقع فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی نوجوانوں کو ترقیاتی امور کے مباحثے میں شامل کرنے کے لیے مختلف پروگرام شروع کر چکی ہے، جن میں ینگ ڈویلپمنٹ فیلوز پروگرام اور جامعات میں ینگ پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کورس شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے قومی مباحثے کو ماضی کی بحثوں تک محدود رہنے کے بجائے ان امور پر مرکوز ہونا چاہیے جو ملک کے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہر قوم کے لیے سب سے بڑا چیلنج تعلیم ہے، مصنوعی ذہانت کے انقلاب کے تناظر میں مستقبل کے تعلیمی نظام کا جائزہ لینے، جدت طرازی کو فروغ دینے اور معیشت کو ابھرتے ہوئے چیلنجز سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایسے مباحثوں اور تنازعات سے دور رہیں جن کا ملک کے مستقبل سے کوئی تعلق نہیں اور تعمیری مکالمے میں فعال کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو پاکستان کا مستقبل تعمیر کرنا ہے اور اس کے لیے انہیں تعمیری بحث اور مکالمے کا حصہ بننا ہوگا۔وفاقی وزیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی انفرادی خواہشات کو اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ جوڑیں اور ایسے حل پیش کرنے میں کردار ادا کریں جو ملک کی اجتماعی فلاح و بہبود اور ترقی کو فروغ دے سکیں۔