لندن۔14جنوری (اے پی پی):انگلینڈ نے آئندہ آسٹریلیا میں کھیلی جانے والی ا یشینزسیریز میں پنک بال کے ساتھ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی)نے 2029-30 کی ا یشینزسیریز کے حوالے سے اپنی پوزیشن کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کو آگاہ کر دی ہے۔یہ فیصلہ حالیہ ایشینزسیریز …
انگلینڈ کا آئندہ ایشینز سیریز میں پنک بال کے ساتھ ڈے نائٹ ٹیسٹ نہ کھیلنے کا عندیہ

مزید خبریں
لندن۔14جنوری (اے پی پی):انگلینڈ نے آئندہ آسٹریلیا میں کھیلی جانے والی ا یشینزسیریز میں پنک بال کے ساتھ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی)نے 2029-30 کی ا یشینزسیریز کے حوالے سے اپنی پوزیشن کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کو آگاہ کر دی ہے۔یہ فیصلہ حالیہ ایشینزسیریز کے بعد دونوں بورڈز کے سینئر حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آیا جہاں ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل اور ایشینز سیریز کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنے پر غور کیا گیا۔
گزشتہ ماہ برسبین کے گابا گراؤنڈ میں کھیلے گئے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں انگلینڈ کو آسٹریلیا کے ہاتھوں 8وکٹوں سے یکطرفہ شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد آسٹریلیا کوایشینز سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل ہوگئی تھی اور بالآخر انگلینڈ سیریز 1-4 سے ہار گیا۔اگرچہ انگلینڈ اور آسٹریلیا مارچ 2027 میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں پہلے ٹیسٹ میچ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلنے پر متفق ہیں تاہم اس فیصلے پر بھی مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ اس میچ کے لیے انگلینڈ کو وارم اپ میچ کھیلنے کا موقع دئیے جانے کی توقع ہے مگر ذرائع کے مطابق پنک بال فارمیٹ پر نظرِ ثانی کا امکان موجود ہے۔
بی بی سی نے بتایا ہے کہ آسٹریلیا کے ایک بااثر سابق کرکٹر نے بھی کرکٹ آسٹریلیا کو خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے اس میچ کو روایتی ریڈ بال ٹیسٹ میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔پنک بال ٹیسٹ نشریاتی اداروں کے لیے پرکشش ضرور ہیں کیونکہ شام کے اوقات میں ناظرین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور برسبین ٹیسٹ کی ریٹنگز پرتھ اور ایڈیلیڈ کے میچز سے بہتر رہیں، تاہم کرکٹ آسٹریلیا کے پاس میزبان براڈکاسٹرز سیون اور فاکس کے ساتھ ہر سال پنک بال ٹیسٹ کرانے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔آسٹریلیا نے 2015 میں آئی سی سی کی جانب سے ڈے نائٹ ٹیسٹ کی منظوری کے بعد اس فارمیٹ کو خاصا اپنایا ہے۔ اب تک کھیلے گئے 25 ڈے نائٹ ٹیسٹ میں سے 14 آسٹریلیا میں ہوئے ہیں جہاں میزبان ٹیم کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔آسٹریلیا نے 15 میں سے 14 ڈے نائٹ ٹیسٹ جیتے ہیں جبکہ انگلینڈ نے 7میں سے صرف 2 میں کامیابی حاصل کی جن میں سے 4 شکستیں آسٹریلیا میں ہوئیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ آسٹریلیا میں استعمال ہونے والی پنک اور ریڈ بال میں سوئنگ اور سیم موومنٹ کے اعتبار سے کوئی بڑا فرق نہیں، تاہم فلڈ لائٹس میں بلے بازوں کے لیے پنک بال کو دیکھنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیز گیند باز خاص طور پر مچل سٹارک، ڈے نائٹ ٹیسٹ میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔ایشینز سیریز سے قبل انگلینڈ کے سٹار بلے باز جو روٹ نے بھی سوال اٹھایا تھا کہ آیا ایشینز جیسی تاریخی سیریز کو واقعی پنک بال ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔انگلینڈ کے حالیہ مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں ایشینز سیریزکو زیادہ سے زیادہ روایتی ریڈ بال ٹیسٹ سیریز کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے، تاکہ اس تاریخی مقابلے کی کلاسیکی شناخت برقرار رکھی جا سکے۔








