کشمیریوں نے نواز شریف، مریم نواز کے منصوبوں کو ووٹ دیا,ہے، رانا سکندر حیات

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے صوبائی وزیر کھیل فیصل کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ن لیگ کو پرفارمنس پر ووٹ ملے ہیں۔ کشمیریوں نے الیکٹرک بسوں، کھیلتا پنجاب، دانش سکولوں، سکول آف ایمیننس، ستھرا پنجاب، اپنا گھر اپنی چھت، ہونہار سکالرشپ، موٹر ویز کو ووٹ دیا ہے۔

لاہور۔1اگست (اے پی پی):وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے صوبائی وزیر کھیل فیصل کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ن لیگ کو پرفارمنس پر ووٹ ملے ہیں۔ کشمیریوں نے الیکٹرک بسوں، کھیلتا پنجاب، دانش سکولوں، سکول آف ایمیننس، ستھرا پنجاب، اپنا گھر اپنی چھت، ہونہار سکالرشپ، موٹر ویز کو ووٹ دیا ہے۔ کیا بلاول سندھ میں یہ پراجیکٹس لا سکتے ہیں؟. کیا کشمیری بلاول سے یہ پراجیکٹس مانگ سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مریم نواز کی پرفارمنس، ویژن اور نواز شریف کا نظریہ جیتا ہے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ کراچی کو بوری بند لاشوں سے نواز شریف نے نکالا ہے۔ بلاول اینڈ پارٹی نے کراچی اور سندھ کیلئے کیا کیا ہے؟ ایجوکیشن پر سندھ کو کتنا بجٹ دیا۔ جمہوریت اور اخلاقیات پر ہمیں لیکچر نہ دیں۔ پنجاب میں سیلاب آ جائے تو ہماری وزیر اعلی فیلڈ میں نکل پڑتی ہیں۔ ہمارے جیسا واسا کا نظام سندھ کے پاس کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہمارے جیسا واسا بناتا تو ایسا نہ کہتے کہ زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔ کشمیریوں نے کشمیر کی بیٹی کو ووٹ دیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے الیکشن میں بھی پراگریس، امن اور ترقی ہی جیتے گی۔ پیپلز پارٹی کے پاس بتانے کو کچھ نیا نہیں۔ وہ ہر روز ٹی وی پر بیٹھ کر تقاریر کر رہے ہوتے ہیں اور ہم ہر روز ایک نیا پراجیکٹ لانچ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی فرق ہے پنجاب اور سندھ میں۔ یہی ترقی دنیا آزاد کشمیر میں بھی دیکھے گی۔

رانا سکندر حیات نے کہاکہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ پیپلز پارٹی والوں کی سکولنگ کرتے رہیں۔ ہم ان کے لیول پر آ کر بات نہیں کر سکتے۔ رانا سکندر حیات نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مسلسل سندھ پر حکومت کر رہے ہیں لیکن اپنا لٹریسی ریٹ پنجاب کے برابر بھی نہیں لا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلتے سکول سندھ کیلئے بھی ضروری ہیں۔ لیکن بلاول اینڈ کو سندھ میں یہ منصوبے نہیں لا سکتے۔ اس لئے مریم نواز کی پرفارمنس کو برداشت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 13 میں سے 9 نشستوں کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کے 75 فیصد عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ آج کا نوجوان نعروں پر نہیں ہرفارمنس کو ووٹ دینے پر یقین رکھتا ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ کسی نے گورنر ہاوس کی دیواریں گرانے، وزیر اعلی ہاوس کو یونیورسٹی بنانے، ایک کروڑ نوکریاں دینے، انٹرنیشل سٹوڈنٹس کو پاکستان تعلیم حاصل کرنے کیلئے لانے اور 50 لاکھ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

آج کہاں ہے یہ سب کچھ؟ وزیر اعلی مریم نواز نے وعدے کے مطابق 2 لاکھ گھر بنا کر دئیے۔ آج طلبا کو لیپ ٹاپ اور سکالرشپ مل رہی ہیں۔ دوسرے ملکوں سے طلبا پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے آ رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں 31 اور رحیم یار خان کی یونیورسٹی میں 8 طلبا دوسرے ملک سے پڑھنے آئے ہیں۔ اگلے سال سے بنگلہ دیشی طلبا بھی دانش سکول میں داخلے کیلئے آ رہے ہیں۔ یہی ہماری وزیر اعلی کا ویژن ہے جس کے پیچھے ان کی چودہ چودہ گھنٹے کی محنت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے عوام تک بھی اسی ترقی کے ثمرات پہنچائے گی۔