سیٹل ۔4نومبر (اے پی پی):مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے ایمازون کے ساتھ 38 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کر دیئے، یہ معاہدہ جو اوپن اے آئی اور ایمازون کی کلاؤڈ سروسز کمپنی’’ اے ڈبلیو ایس ‘‘کے درمیان طے پایا ہے ایمازون کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شراکت داریوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں پہلے سے ہی اوریکل، براڈکوم، اے …
اوپن اے آئی کا ایمازون کی کلاؤڈ سروسز کمپنی کے ساتھ 38 ارب ڈالر کا معاہدہ

مزید خبریں
سیٹل ۔4نومبر (اے پی پی):مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے ایمازون کے ساتھ 38 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کر دیئے، یہ معاہدہ جو اوپن اے آئی اور ایمازون کی کلاؤڈ سروسز کمپنی’’ اے ڈبلیو ایس ‘‘کے درمیان طے پایا ہے ایمازون کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شراکت داریوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں پہلے سے ہی اوریکل، براڈکوم، اے ایم ڈی اور چِپ ساز دیوہیکل کمپنی ’این ویڈیا‘ شامل ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے کہا کہ اس نے اگلے سات سال میں ایمیزون سے کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروسز میں 38 بلین خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔
اضافی کمپیوٹنگ پاور، اوپن اے آئی کو اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز بشمول چیٹ جی ٹی پی ،چیٹ بوٹ کی تعمیر اور تعینات کرنے میں مدد کرے گی۔2019 سے 2023 تک، اوپن اے آئی نے اپنی تمام کمپیوٹنگ پاور مائیکرو سافٹ سے ایک پیچیدہ شراکت داری کے حصے کے طور پر خریدی۔ ان کے معاہدے میں کہا گیا تھا کہ اوپن اے آئی کو مکمل طور پر مائیکروسافٹ سے خریدنا چاہیے، جو اس کے بنیادی سرمایہ کار ہے، جب تک کہ مائیکروسافٹ دیگر کمپنیوں کے ساتھ کمپیوٹنگ سودوں کی منظوری نہ دے دے۔معاہدے کے تحت اوپن اے آئی جو ایمازون کے حریف مائیکروسافٹ کی جزوی ملکیت بھی ہے، جدید ترین اینویڈیا جی پی یوز (گرافکس پروسیسنگ یونٹس) تک رسائی حاصل کرے گی، یہی ٹیکنالوجی موجودہ جنریٹو اے آئی انقلاب کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
اس معاہدے کے دوران اوپن اے آئی کو دسیوں لاکھ روایتی سی پی یوز تک بھی رسائی حاصل ہوگی، جو روزمرہ کے’’ایجنٹک اے آئی‘‘ نظاموں کی تعیناتی کے لیے استعمال ہوں گے۔اوپن اے آئی کے شریک بانی اور سی ای او سیم آلٹ مین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ جدید ترین اے آئی کو وسعت دینے کے لیے بھاری، قابلِ اعتماد کمپیوٹنگ درکار ہے، اے ڈبلیو ایس کے ساتھ ہماری شراکت اس وسیع کمپیوٹنگ ایکو سسٹم کو مضبوط کرے گی جو آنے والے دور کی طاقت بنے گا اور جدید اے آئی کو سب کے لیے قابلِ رسائی بنائے گا۔اوپن اے آئی فوری طور پر اے ڈبلیو ایس کی کمپیوٹنگ صلاحیت استعمال کرنا شروع کر دے گا، اور منصوبہ یہ ہے کہ 2026 کے اختتام تک تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
تخمینوں کے مطابق، 2025 میں اوپن اے آئی نے تقریباً 10 کھرب ڈالر مالیت کے انفرااسٹرکچر معاہدے کیے ہیں، جن میں 300 ارب ڈالر کا اوریکل معاہدہ اور 500 ارب ڈالر کا ’’اسٹارگیٹ‘‘منصوبہ (اوریکل اور سافٹ بینک کے اشتراک سے) شامل ہیں۔یہ بے مثال سرمایہ کاری ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب اوپن اے آئی کی آمدنی 2025 میں اربوں ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، تاہم یہ اب بھی ان بھاری کمپیوٹنگ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی مانی جا رہی ہے جو کمپنی کے طاقتور چیٹ بوٹس کو چلانے کے لیے درکار ہیں۔








