اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں ویکسین کی خود کفالت اور صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کا چوتھا اجلاس پیر کے روز کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا۔ افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال تھے۔ اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل (سائنس و …
او آئی سی رکن ممالک میں ویکسین کی خود کفالت اور صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے کیلئے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کا اجلاس شروع

مزید خبریں
اسلام آباد۔9فروری (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں ویکسین کی خود کفالت اور صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کا چوتھا اجلاس پیر کے روز کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا۔ افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال تھے۔
اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل (سائنس و ٹیکنالوجی) آفتاب احمد کھوکھر، کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، قومی ادارہ صحت کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سلمان، او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ، عالمی ادارہ صحت، اسلامی ترقیاتی بینک، سسرک، اسمیق، ویکسین تیار کرنے والے اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، ترقیاتی شراکت داروں اور او آئی سی کے رکن ممالک کے ماہرین نے شرکت کی۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ ایک اہم عالمی مرحلے پر او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس کی میزبانی او آئی سی رکن ممالک کے اجتماعی صحت کے تحفظ کے عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وباء اور بعد ازاں عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹوں نے واضح کر دیا ہے کہ ویکسین میں خود کفالت اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جہاں بیماریوں کا بوجھ زیادہ اور آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے قیام (2014) کے بعد سے ادارہ جاتی تعاون، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور انڈونیشیا میں ویکسین و بائیوٹیکنالوجی مصنوعات کے لیے مرکز امتیاز کے قیام کے ذریعے مضبوط بنیادیں رکھی جا چکی ہیں۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسلامی دنیا میں سائنسی تعاون اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے کامسٹیک کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت 13 ویکسین درآمد کر رہا ہے تاہم حکومت کا ہدف ہے کہ 2030ء تک مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کی صلاحیت حاصل کی جائے جس کے لیے او آئی سی رکن ممالک کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے او آئی سی ممالک کے درمیان ایک مشترکہ ویکسین اتحاد کے قیام کی تجویز بھی دی تاکہ اسلامی دنیا کے تقریباً ایک ارب نوے کروڑ افراد کو درپیش صحت کے چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
اس موقع پر آفتاب احمد کھوکھر نے کہا کہ او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ ویکسین مینوفیکچررز گروپ کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی رکن ممالک میں ویکسین سازی کی صلاحیت کو مضبوط بنانا تنظیم کے سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی کے وسیع تر ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری ہم آہنگی، معیار بندی اور او آئی سی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کامسٹیک کے کردار کو سراہا۔
اجلاس میں او آئی سی خطے کے معروف ویکسین ساز اداروں اور تحقیقی مراکز شرکت کررہے ہیں جن میں انڈونیشیا، ایران، سینیگال،سعودی عرب، ملائیشیا، پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے ادارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قومی ریگولیٹری ادارے اور بین الاقوامی شراکت دار بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کا یہ اجلاس ویکسین کی دستیابی، افادیت، معیار اور علاقائی خود کفالت کے لیے واضح سفارشات اور عملی لائحہ عمل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا جو نہ صرف او آئی سی ممالک بلکہ عالمی سطح پر صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔








