او آئی سی سی آئی کا سروے کے نتائج خوش آئند ہے،بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے،مشیرخزانہ خرم شہزاد

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ توانائی کی قیمتوں اور پالیسی ریٹ میں کمی ، کاروبارو سرمایہ کاری میں آسانی اور ٹیکس کے ڈھانچے میں اصلاحات جیسے اقدامات کے نتیجہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی ملکی معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ اوورسیزانوسٹرز چیمبرآف کامرس …

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے کہا ہے کہ توانائی کی قیمتوں اور پالیسی ریٹ میں کمی ، کاروبارو سرمایہ کاری میں آسانی اور ٹیکس کے ڈھانچے میں اصلاحات جیسے اقدامات کے نتیجہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی ملکی معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ اوورسیزانوسٹرز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز( او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے سروے کے نتائج خوش آئند ہیں ، سروے میں 73فیصد تاجروں اور سرمایہ کاروں نے پاکستان کو کاروبار اورتجارت کےلئے موزوں ملک قرار دیا ہے، گزشتہ سروے میں یہ شرح 61فیصد تھی ۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ سروے کے نتائج سے اس بات کی عکاسی ہورہی ہے کہ اصلاحات ، معاشی بحالی ، کرنسی کے استحکام ، مہنگائی میں کمی ،زری و مالی نظم و ضبط اور بیرونی کھاتوں کے استحکام کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کے اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتوں اورزراعت کے شعبہ کےلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 38 روپے سے کم کرکے 23 روپے فی یونٹ کردی گئی ہے، پالیسی ریٹ میں گزشتہ سال کی نسبت آدھے سے زیادہ کمی کی گئی ہے، ٹیکس کے شعبے میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے ، روایتی شعبوں کو ریلیف دیا جارہا ہے جبکہ تعمیری اور انفورسٹمنٹ کے اقدامات پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضابطہ جاتی آسانیوں کی فراہمی کےلئے اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے اس کے نتیجہ میں پراسیسنگ کی مدت میں کمی آئی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ کاروبار میں آسانیوں اور پیداوار اخراجات میں کمی کےلئے کوششیں جاری ہیں ، حکومت اصلاحات کے عمل کے ذریعے پائیدار نمو، سرمایہ کاری اورنئی ملازمتیں پیدا کرنے پر یکسو ہے۔