اٹھارہویں اور چھبیسویں آئینی ترامیم میں مشاورتی عمل سے اتفاق رائے پیدا ہوا ، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):جمعیت علماء اسلام ( ف)کے سربراہ ، ایم این اے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترامیم، 26ویں آئینی ترامیم میں مشاورتی عمل سے اتفاق رائے پیدا ہوا ، پی ٹی آئی 26 ویں آئینی ترامیم میں براہ راست نہیں، لیکن ہمارے زریعے اتفاق رائے کا حصہ رہی ۔ وہ منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں 2025 …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):جمعیت علماء اسلام ( ف)کے سربراہ ، ایم این اے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترامیم، 26ویں آئینی ترامیم میں مشاورتی عمل سے اتفاق رائے پیدا ہوا ، پی ٹی آئی 26 ویں آئینی ترامیم میں براہ راست نہیں، لیکن ہمارے زریعے اتفاق رائے کا حصہ رہی ۔ وہ منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں 2025 منظوری کے بعد اظہار خیال کر رہے تھے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمان ایسا فورم ہے جہاں ہم مل بیٹھ کر باہمی طور پر مشاورت سے معاملات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔کوشش کی جائے کہ آئینی ترامیم میں اتفاق رائے کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 1973 میں پیپلز پارٹی دو تہائی اکثریت میں تھی وہ پورا آئین منظور کر سکتی تھی لیکن انہوں نے طویل مذارکرات کی پہلے عبوری اور پھر مستقل آئین آیا، اس نے تمام صوبوں، جماعتوں سمیت ہر مکتبہ فکر کو اعتماد میں لیکر متفقہ آئین دیا۔

18 ویں ترمیم میں بھی 9 ماہ کی جدوجہد کے بعد متفقہ طور پر یہ ترمیم لائی گئی ۔ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ پارلیمنٹ اور قیادت میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تمام تر اختلافات کے باوجود متفقہ آئینی ترامیم لاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں بھی مشاورتی عمل جاری رہا ، پی ٹی آئی براہ راست تو نہیں ہمارے ذریعے اتفاق رائے کا حصہ بنی لیکن 27 ویں آئینی ترامیم میں یہ عمل نہیں د ہراگیا ۔