اپنی مرضی سے نشہ کرنے والا شخص سنگین جرم کے ارتکاب پر قانون کے سامنے جوابدہی سے بچ نہیں سکتا ، سپریم کورٹ
اپنی مرضی سے نشہ کرنے والا شخص سنگین جرم کے ارتکاب پر قانون کے سامنے جوابدہی سے بچ نہیں سکتا ، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرنے والا شخص سنگین جرم کے ارتکاب پر قانون کے سامنے جوابدہی سے بچ نہیں سکتا کیونکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 85 کا تحفظ صرف ایسے شخص کو حاصل ہوتا ہے جسے اس کی مرضی یا علم کے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔سپریم کورٹ نے کمسن بچی سے زیادتی اور بہیمانہ قتل کے مقدمے میں مجرم سنی مسیح کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ رضاکارانہ نشہ سزا میں نرمی یا فوجداری ذمہ داری سے استثنیٰ کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس صلاح الدین پنھور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے ،نے تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔فیصلے کے مطابق سنی مسیح کے خلاف 2014 میں تھانہ سٹی سبی میں پانچ سالہ اینجل کماری کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302(b)، 364-A اور 376 کے تحت سزائے موت سنائی، جسے بعد ازاں بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔سپریم کورٹ میں ملزم کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل میرٹ پر نہ چلانے کا اعلان کرتے ہوئے صرف سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی۔
مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم نے جرم نشے کی حالت میں کیا، اس لیے سزا میں رعایت دی جائے۔عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کسی ایسے شخص کو رعایت نہیں دیتا جو اپنی مرضی سے نشہ کرے اور پھر جرم کا ارتکاب کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جو شخص رضاکارانہ طور پر نشہ کرتا ہے، وہ فوجداری ذمہ داری سے استثنیٰ کا حق دار نہیں ہو سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کا اعترافی بیان رضاکارانہ، درست اور دیگر شواہد سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے جبکہ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔ سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں نہ کوئی قانونی خامی پائی گئی اور نہ ہی شواہد کی غلط جانچ سامنے آئی لہٰذا اپیل ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کی جاتی ہے۔








