اگر فرانس نے یوکرین میں فوج بھیجی تو اسے محاذ جنگ میں قانونی ہدف سمجھا جائے گا ، روس

ماسکو ۔30اکتوبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ اگر فرانس نے یوکرین میں فوج بھیجی تو اسے محاذ جنگ میں قانونی ہدف سمجھا جائے گا ۔ تاس کے مطابق روسی ریاستی ڈوما کے دفاعی کمیٹی کے چیئرمین آندرے کارتاپولوف نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس نے یوکرین میں اپنی فوجی دستہ بھیجی تو اسے محاذ جنگ میں قانونی ہدف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اب تک ہمیں …

ماسکو ۔30اکتوبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ اگر فرانس نے یوکرین میں فوج بھیجی تو اسے محاذ جنگ میں قانونی ہدف سمجھا جائے گا ۔ تاس کے مطابق روسی ریاستی ڈوما کے دفاعی کمیٹی کے چیئرمین آندرے کارتاپولوف نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس نے یوکرین میں اپنی فوجی دستہ بھیجی تو اسے محاذ جنگ میں قانونی ہدف سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ اب تک ہمیں یقینی طور پر معلوم نہیں کہ فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون نے یہ فیصلہ کیا ہے یا نہیں، یا اگر کیا ہے تو اس کے نفاذ کا کون سا مرحلہ چل رہا ہے۔ لیکن ان فرانسیسی فوجیوں کے لیے جو اس بیوقوفانہ فیصلے کے تحت یوکرین بھیجے جائیں گےیہ ایک طرفہ ٹکٹ ہوگا۔

انہوں نے میکرون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر مکرون اپنی ملک میں مقبول نہیں اور وہ کسی بھی کامیابی کی تلاش میں ہیں، جس کی وجہ سے وہ خارجہ پالیسی میں قدم اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے زوردیا کہ جو بھی غیر ملکی دستہ یوکرین کے لیے لڑے گا، اسے روسی فوج کے لیے جائز ہدف سمجھا جائے گا۔