اگیتی کاشتہ کپاس ملکی معیشت کے استحکام اور پیداوار میں اضافے کی ضامن ہے: ڈاکٹر عامر رسول

فیصل آباد۔ 20 جنوری (اے پی پی):ڈاکٹر عامر رسول ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹیسائڈز نے کہا ہے کہ کپاس ملکی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور مجموعی ملکی کپاس کا ایک بڑا حصہ صوبہ پنجاب پیدا کرتا ہے۔ اگیتی کاشتہ کپاس موسمی شدت اور نقصان دہ کیڑوں کے حملوں کا مقابلہ نسبتاً بہتر انداز میں کرتی ہے، جس کے باعث پیداوار میں کمی کے امکانات …

فیصل آباد۔ 20 جنوری (اے پی پی):ڈاکٹر عامر رسول ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹیسائڈز نے کہا ہے کہ کپاس ملکی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور مجموعی ملکی کپاس کا ایک بڑا حصہ صوبہ پنجاب پیدا کرتا ہے۔ اگیتی کاشتہ کپاس موسمی شدت اور نقصان دہ کیڑوں کے حملوں کا مقابلہ نسبتاً بہتر انداز میں کرتی ہے، جس کے باعث پیداوار میں کمی کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی پیداواری منصوبہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ ڈائریکٹرنظامت زرعی اطلاعات فیصل آباد ڈاکٹر آصف علی نے ’’اے پی پی ‘‘ کو بتایا کہ اجلاس کا مقصد کپاس کے پیداواری منصوبہ 2026 کی تیاری، اس پر مشاورت اور مجوزہ اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ڈاکٹر عامر رسول نے کہا کہ اگیتی کاشتہ کپاس پر رس چوسنے والے کیڑوں، خصوصاً سفید مکھی کا حملہ نسبتاً کم ہوتا ہے، جس کے باعث پتا مروڑ وائرس کے پھیلاؤ میں بھی واضح کمی آتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ بوائی سے قبل بیج کو سفارش کردہ زہر سے ٹریٹ کرنا نہایت ضروری ہے، بالخصوص اگیتی کاشت میں، کیونکہ اس طریقہ کار سے فصل تقریباً ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سائنٹسٹ ایگریکلچرل ریسرچ ڈاکٹر ساجد الرحمن نے کہا کہ اگیتی کاشت کے لیے کپاس کی ٹرپل جین اقسام سفارش کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ بیج خریدتے وقت اس امر کی مکمل تصدیق کریں کہ بیج فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے تصدیق شدہ اور خالص ٹرپل جین قسم کا ہوکیونکہ غیر ٹرپل جین اقسام پر گلائفوسیٹ کے استعمال سے فصل متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرپل جین اقسام جڑی بوٹی مار زہر گلائفوسیٹ کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر ایگریکلچرل ایکسٹینشن ہیڈ کوارٹر لاہور ڈاکٹر محمد اقبال خان نے کہا کہ صوبائی وزیر زراعت پنجاب اور سیکرٹری زراعت پنجاب کی ہدایات اور ان کی قیادت میں کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی اور تکنیکی معاونت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد ڈویژن چوہدری خالد محمود، پروفیسر ڈاکٹر ندیم اکبر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، صباحت حسین ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان سمیت زرعی سائنسدانوں، یونیورسٹی پروفیسرز اور محکمہ زراعت کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کپاس کے پیداواری منصوبہ 2026 کو حتمی شکل دینے، اس کی بروقت اشاعت اور کاشتکاروں تک مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ لائحہ عمل طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

شرکاء نے زرعی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ملکی زرعی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

اجلاس میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے کاشت سے لیکر برداشت تک کے عوامل اور اسکی ترقی دادہ اقسام کی کاشت کیلئے موزوں آب و ہوا، شرح بیج، وقت کاشت، زمین کی تیاری، طریقہ کاشت،کھادوں اور پانی کا استعمال، گوڈی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ کے حوالے سے چند ضروری ترامیم کو شامل کرنے کے بعد کپاس کے پیداواری منصوبہ 2026کی منظوری دی گئی۔

حتمی اشاعت نظامت اعلی زرعی اطلاعات پنجاب لاہورکے تعاون سے کی جائے گی اور کاشتکاروں تک اس کی ترسیل ممکن بنائی جائے گی