ایران جنگ سے امریکا کو روزانہ دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے ، ماہرین

واشنگٹن۔1اپریل (اے پی پی):عالمی تنازعات سے معاشی نقصان پر نظر رکھنے والے امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ ایران جنگ سے امریکا کو روزانہ دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے ۔ بی بی سی کے مطابق براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات کی مد میں اس …

واشنگٹن۔1اپریل (اے پی پی):عالمی تنازعات سے معاشی نقصان پر نظر رکھنے والے امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ ایران جنگ سے امریکا کو روزانہ دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے ۔ بی بی سی کے مطابق براؤن یونیورسٹی کے جنگی لاگت کے منصوبے کی ڈائریکٹر سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں اور فوجی اخراجات، امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات کی مد میں اس جنگ سے امریکیوں کو پہلے ہی دسیوں ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے نتیجے عوامی قرضوں میں روزانہ کی بنیاد پر بہت بڑی رقم کا اضافہ ہو رہا ہے۔پینٹاگون نے مارچ کے آغاز میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں اس پر 11 ارب 30 کروڑ ڈالر کے اخراجات ہوئے لیکن سٹیفنی سیویل کے خیال میں درحقیقت یہ لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے دفاعی بجٹ کی ماہر لنڈا بلائمز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر اس جنگ پر پہلے ہی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دو ارب ڈالر لاگت آ رہی ہے۔سٹیفنی سیویل کا کہنا ہے کہ جنگی اخراجات کا بوجھ ہمیشہ عام امریکی شہری پر پڑتا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی، کاروبار میں غیر یقینی صورتحال اور انشورنس کی لاگت میں اضافے جیسے طویل مدتی اثرات بھی پڑیں گے۔وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ایران میں جنگ کے لیے مزید 200 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا جائے گا جو سٹیفنی سیویل کے بقول ایک بہت بڑی رقم ہے۔