ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں امریکا میں ہتھیاروں کے ذخائر میں تشویشناک حد تک کمی ہو گئی ہے ۔
ایران میں فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں تشویشناک حد تک کمی

مزید خبریں
واشنگٹن۔28مارچ (اے پی پی):ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں امریکا میں ہتھیاروں کے ذخائر میں تشویشناک حد تک کمی ہو گئی ہے ۔امریکی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے جنگ کے پہلے چار ہفتوں کے دوران ٹوماہاک طرز کے 850 سے زائد کروز میزائل استعمال کیےہیں۔میزائلوں کے استعمال کی یہ غیر معمولی رفتار امریکی وزارت دفاع کے اندر ان ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنی ہے۔ العربیہ نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالہ سے بتایا کہ اس کثرت سے استعمال نے پینٹاگان کو ان ہتھیاروں کے استعمال کی شرح کی نگرانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس دوران یہ انتباہات بھی سامنے آئے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں موجود ذخائر تشویشناک سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اگر فوجی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو گولہ بارود ختم ہونے کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔حکام نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اصل مسئلہ محدود پیداوار کا ہے ۔حکام کے تخمینوں کے مطابق امریکا نے محض ایک ماہ کے دوران ان میزائلوں کے اپنے ذخیرے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر لیا ہے جس سے دیگر علاقوں بالخصوص بحر ہند اور بحر الکاہل میں کسی بھی ممکنہ جنگ کے لیے اس کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ادھر ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملے اب بھی جاری ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 6 اپریل تک کی مہلت دے رکھی ہے۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے اس کے پاس کافی گولہ بارود موجود ہے تاہم دفاعی کمپنیوں کے ساتھ پیداوار بڑھانے اور مینوفیکچرنگ کی رفتار تیز کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ٹوماہاک میزائل جو 1991ء کی خلیجی جنگ سے جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے داغے جا رہے ہیں طویل فاصلے تک مار کرنے والے نمایاں ترین ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک ہزار میل سے زائد فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور سیٹلائٹ کے ذریعے اپنا راستہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ حملوں کے نتائج کے بارے میں براہ راست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔








