لندن،برسلز۔24مارچ (اے پی پی):برطانیہ اور نیٹو نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سےبحرِ ہند میں واقع امریکااور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کو نشانہ بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ العربیہ اردو کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی تشخیصی رپورٹ موجود نہیں جو اس بات کی تصدیق کرے کہ ایران نے ڈیگو گارشیاکو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے گزشتہ …
ایران کی جانب سےبحرِ ہند میں واقع فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کو نشانہ بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، برطانیہ، نیٹو

مزید خبریں
لندن،برسلز۔24مارچ (اے پی پی):برطانیہ اور نیٹو نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سےبحرِ ہند میں واقع امریکااور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کو نشانہ بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ العربیہ اردو کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی تشخیصی رپورٹ موجود نہیں جو اس بات کی تصدیق کرے کہ ایران نے ڈیگو گارشیاکو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مستقل جائزہ لیتی رہتی ہے اور فی الوقت اڈے پر کسی حملے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی بھی کوشش میں گہری سوچ بچار اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح برطانوی مفادات کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ یہ بیان ان رپورٹس کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے بحرِ ہند میں واقع امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کی طرف دو بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ وہ اس اسرائیلی جائزے کی تصدیق نہیں کر سکتےکہ ڈیگو گارشیا کی طرف فائر کیے گئے میزائل ایرانی بیلسٹک میزائل تھے۔
واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے حال ہی میں امریکا کو ڈیگو گارشیا اور فیئر فورڈ کے اڈے ایرانی میزائل تنصیبات پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ ابتدائی طور پر برطانوی وزیراعظم کیئر سٹامر نے ان اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے گریز کیا تھا جس پر انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے دفاعی مقاصد کے لیے اس کی منظوری دے دی۔ ڈیگو گارشیا کا سٹریٹجک اڈا بحرِ ہند میں واقع ہے جہاں امریکی بمبار طیارے اور ایٹمی آبدوزیں تعینات رہتی ہیں۔








