ایس ای سی پی کی ریٹائرمنٹ آمدن کے تحفظ کے لئے نئے اینیوٹی مصنوعات کی منظوری

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے ریٹائرمنٹ کے بعد آمدن کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں اینیوٹی مارکیٹ کے فروغ کے لئے متعدد نئی اینیوٹی مصنوعات کی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے ریٹائرمنٹ کے بعد آمدن کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں اینیوٹی مارکیٹ کے فروغ کے لئے متعدد نئی اینیوٹی مصنوعات کی منظوری دے دی ہے۔کمیشن کی جانب سے منظور کی جانے والی مصنوعات میں لائف کنٹنجنٹ اینیوٹیز، ڈیفرڈ اینیوٹیز، گارنٹیڈ ادائیگیوں والی اینیوٹیز اور ہائبرڈ اینیوٹی ڈھانچے شامل ہیں جو گارنٹیڈ اور تاحیات آمدن کے فوائد کو یکجا کرتے ہیں۔ان مصنوعات کے ذریعے ریٹائر ڈہونے والے افراد اپنی جمع شدہ بچت کو ریٹائرمنٹ کے بعد باقاعدہ اور متوقع آمدن میں تبدیل کر سکیں گے جس سے بڑھاپے میں مالی غیر یقینی صورتحال میں کمی آئے گی۔

یہ فیصلہ انشورنس شعبے کے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے ریٹائرمنٹ نظام میں موجود ایک اہم خلا ء کو دور کرنا ہے۔روایتی طور پر ملک میں ریٹائرمنٹ بچت کی زیادہ تر سکیمیں صرف ملازمت کے دوران بچت جمع کرنے پر مرکوز رہی ہیں جبکہ ان بچتوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مستقل آمدن میں تبدیل کرنے کے لئے محدود سہولیات دستیاب تھیں۔یہ صورتحال بالخصوص بڑھتی ہوئی اوسط عمر اور مسلسل مہنگائی کے تناظر میں ریٹائر ہونے والے افراد کے لئے مالی خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی تھی۔نئی منظور شدہ اینیوٹی مصنوعات کو ریٹائرمنٹ کے بعد آمدن کے لچکدار مواقع فراہم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

لائف کنٹنجنٹ اینیوٹیز میں صارف کو زندگی بھر ادائیگیاں ملتی ہیں جبکہ ڈیفرڈ اینیوٹیز میں ادائیگیوں کا آغاز ایک مقررہ مدت کے بعد ہوتا ہے۔ اسی طرح گارنٹیڈ ادائیگیوں والی اینیوٹیز ایک مخصوص مدت تک باقاعدہ آمدن کو یقینی بناتی ہیں جبکہ ہائبرڈ اینیوٹیز میں گارنٹیڈ ادائیگیوں اور تاحیات آمدن کے فوائد کو یکجا کیا جاتا ہے۔یہ مصنوعات روایتی لائف انشورنس کمپنیوں کے علاوہ ونڈو تکافل اور مکمل تکافل آپریٹرز کے ذریعے بھی پیش کی جائیں گی جس سے روایتی اور شریعت کے مطابق دونوں نظاموں میں ان کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔

توقع ہے کہ آئندہ مہینوں میں مزید انشورنس کمپنیاں بھی اسی نوعیت کی مصنوعات متعارف کرائیں گی۔یہ اقدام حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کے مطابق بھی ہے جس کے تحت روایتی پنشن نظام سے بتدریج ایسے نظام کی جانب منتقل ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں پنشن کا انحصار افراد کی جمع شدہ شراکت پر ہوتا ہے اور اینیوٹی مصنوعات اس بچت کو مستحکم اور قابلِ پیش گوئی آمدن میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق متنوع اینیوٹی مصنوعات کے متعارف ہونے سے پاکستان کے ریٹائرمنٹ نظام کو مضبوطی ملے گی، ریٹائرڈ افراد کی مالی سلامتی میں اضافہ ہوگا اور انشورنس شعبے کی طویل المدتی ترقی کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔

 

مزید خبریں