چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت قائم سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی و فنی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
ایس کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں یو ای ٹی لاہور نارووال کیمپس کے طلبہ و اساتذہ کے لیے علمی و فنی تبادلے کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت قائم سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی و فنی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، نارووال کیمپس کے 70 سے زائد طلبہ و اساتذہ کے لیے مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا جہاں وفد نے منصوبے کے زیرِ زمین پاور ہاؤس، ڈیم سائٹ اور جدید تعمیراتی و آپریشنل نظام کا عملی مشاہدہ کیا۔جاری بیان کے مطابق ایس کے ہائیڈرو (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور دورے سے قبل روٹ پلاننگ، موقع پر تکنیکی بریفنگ اور حفاظتی آگاہی تربیت سمیت تمام ضروری انتظامات مکمل کیے۔دورے کے دوران پراجیکٹ کے تکنیکی ماہر مساب علی نے منصوبے کی عملی ضروریات اور تکنیکی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ہائیڈرو پاور سٹیشن کی بنیادی ٹیکنالوجی، منصوبے کا مجموعی تعارف، تعمیراتی تکنیک، معیاری آپریشن اور مینجمنٹ سسٹم سمیت مختلف پہلوئوں پر طلبہ اور اساتذہ کو جامع معلومات فراہم کیں۔
وفد میں شامل اساتذہ اور طلبہ نے منصوبے کے جدید اور اعلیٰ معیار کے تعمیراتی نظام کو سراہا، خصوصاً زیر زمین پاور ہائوس، 23.1 کلومیٹر طویل ہیڈ ریس ٹنل، سرج شافٹ، پین سٹاک اور ذہین آپریشن و مینٹیننس مینجمنٹ سسٹم کو قابل تحسین قرار دیا۔وفد نے چینی اور پاکستانی عملے کے درمیان موثر رابطہ، بہترین ٹیم ورک اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا۔ اس موقع پر ایس کے ہائیڈرو کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت جاری اقدامات سے بھی وفد کو آگاہ کیا گیا۔وفد نے پراجیکٹ ٹیم کی جانب سے پرتپاک میزبانی اور پیشہ ورانہ تکنیکی معلومات کی فراہمی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آن سائٹ مطالعاتی دورے نے کلاس روم میں حاصل ہونے والی نظریاتی تعلیم کو عملی تجربے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس دورے سے طلبہ کے تعلیمی افق وسیع ہوئے اور سول انجینئرنگ کے عملی پہلوئوں کو سمجھنے میں مدد ملی۔وفد نے اس امر کو بھی سراہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت جاری منصوبے پاکستان میں صاف توانائی کے فروغ، توانائی کے تحفظ اور گرین و کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایس کے ہائیڈرو پاور سٹیشن میں بنیادی سرمایہ کاری، تعمیر اور آپریشن چائنا انرجی اوورسیز انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے کیا گیا ہے، جو ایس کے ہائیڈرو (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا بڑا شیئر ہولڈر بھی ہے۔ منصوبے نے 14 ستمبر 2024 کو باضابطہ طور پر کمرشل آپریشن کا آغاز کیا اور اب تک 5.35 ارب کلو واٹ آور سے زائد صاف بجلی پیدا کر چکا ہے۔سی پیک کے تحت پاکستان کے ایک اہم گرین انرجی منصوبے کی حیثیت سے ایس کے ہائیڈرو پاور سٹیشن ملکی معاشی ترقی اور توانائی کے تحفظ میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔مستقبل میں منصوبہ مقامی کمیونٹی کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کو ترجیح دے گا۔ پراجیکٹ انتظامیہ کے مطابق ایس کے ہائیڈرو پاور سٹیشن پاکستان کے پن بجلی کے شعبے میں تربیت اور عملی تعلیم کے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنا کردار جاری رکھتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستانہ توانائی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔








