ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی 38 ویں علاقائی کانفرنس ، پاکستان کا زرعی و غذائی نظام کو بہتر بنانے کےمنصوبے کا اعلان

ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی 38 ویں علاقائی کانفرنس میں پاکستان نے زرعی و غذائی نظام (ایگری فوڈ سسٹمز) کو بہتر بنانے کےمنصوبے کا اعلان کیا جس میں خوراک کی فراہمی، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون پر توجہ دی گئی ہے۔

اسلام آباد۔25اپریل (اے پی پی):ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی 38 ویں علاقائی کانفرنس میں پاکستان نے زرعی و غذائی نظام (ایگری فوڈ سسٹمز) کو بہتر بنانے کےمنصوبے کا اعلان کیا جس میں خوراک کی فراہمی، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون پر توجہ دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے 38 ویں وزارتی اجلاس کے دوران پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے قومی اور عالمی سطح پر غذائی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات کو اجاگر کیا۔ یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق کانفرنس کا افتتاح برونائی دارالسلام کے شہزادہ حاجی المحدثی باللہ (Prince Haji Al-Muhtadee Billah) نے کیا۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر نے ان سے ملاقات کی اور پاکستان کی قیادت اور عوام کی جانب سے سلطان حاجی حسنال بولکیہ (Sultan Haji Hassanal Bolkiah) کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے موقع پر وزیر نے برونائی کے وزیر برائے بنیادی وسائل و سیاحت عبدالمناف متوسین ( Abdul Manaf Metussin) سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ماہی گیری، آبی زراعت، زرعی ٹیکنالوجی اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں ممالک نے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر بھی غور کیا۔ اپنے خطاب میں وفاقی وزیر نے عالمی غذائی مسائل کے حل میں ایف اے او کے کردار کا حوالہ دیا اور ”چار بہتر“ (Four Betters) فریم ورک کا ذکر کیا جس میں پیداوار، غذائیت، ماحولیات اور معیارِ زندگی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ فریم ورک ممالک کو اپنے زرعی و غذائی نظام بہتر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، معاشی حالات، توانائی کی فراہمی میں مسائل اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے غذائی نظام دبائو کا شکار ہیں، جس سے لاگت میں اضافہ، منڈیوں پر اثرات اور خوراک تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیز رفتار اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت، روزگار اور خوراک کی فراہمی کا اہم شعبہ ہے۔

انہوں نے ایف اے او کے تعاون سے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا جن میں پانی کے بہتر استعمال، فصلوں میں تنوع اور موسمیاتی بنیادوں پر کاشتکاری شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبے میں ڈیجیٹل ٹولز، ڈیٹا سسٹمز اور پریسیڑن فارمنگ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ اور وسائل کا موثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ منصوبے میں چھوٹے کاشتکاروں، خواتین اور نوجوانوں کی معاونت بھی شامل ہے جبکہ زرعی توسیعی خدمات اور ویلیو چینز کو مضبوط بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے ان اصلاحات کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان ایف اے او کے ساتھ مل کر الگ الگ منصوبوں کے بجائے ڈیٹا پر مبنی مربوط حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کیا جا سکے۔

پاکستان ایف اے او اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر بیماریوں کی نگرانی، ٹیسٹنگ سسٹمز اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔ مویشیوں کی بیماریوں بالخصوص منہ کھر کی بیماری پر قابو پانے کے لیے پروگرامز جاری ہیں جبکہ جانوروں کی شناخت اور ٹریکنگ کے نظام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے تاکہ لائیوسٹاک کی پیداوار اور تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ اختتام پر انہوں نے کہا کہ زرعی و غذائی نظام میں اصلاحات اب ایک فوری ضرورت بن چکی ہیں، اور پاکستان ایف اے او اور دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے خوراک کی فراہمی، غذائیت، ماحولیات اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید خبریں