اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستانی شہریوں کو جعلی نوکریوں کے بہانے کمبوڈیا اسمگلنگ کرنے اور انہیں غیر قانونی آن لائن فراڈ میں پھنسانے میں ملوث دو اہم ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ایک اہلکار نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ یہ گرفتاریاں ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گلگت نے بیرونِ ملک پاکستانی شہریوں کو حراست میں لے کر استحصال کرنے …
ایف آئی اے کی کارروائی، شہریوں کو جعلی نوکریوں کے بہانے کمبوڈیا بھجوانے اور غیر قانونی آن لائن فراڈ میں پھنسانے میں ملوث دو اہم ملزم گرفتار

مزید خبریں
اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستانی شہریوں کو جعلی نوکریوں کے بہانے کمبوڈیا اسمگلنگ کرنے اور انہیں غیر قانونی آن لائن فراڈ میں پھنسانے میں ملوث دو اہم ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ایک اہلکار نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ یہ گرفتاریاں ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گلگت نے بیرونِ ملک پاکستانی شہریوں کو حراست میں لے کر استحصال کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران کیں۔ گرفتار ملزموں کی شناخت عدنان اسلام اور انعام اللہ کے نام سے ہوئی۔
ایف آئی اے کے مطابق عدنان اسلام کو ہنزہ سے گرفتار کیا گیا جبکہ انعام اللہ چین بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مربوط کارروائی کے نتیجے میں اسے واپس ڈی پورٹ کر کے آمد پر گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیشی ٹیم نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے ملزموں کے ٹریفکنگ نیٹ ورک میں کردار کی تصدیق کی۔اہلکار کے مطابق ملزموں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر شہریوں جن میں زیادہ تر گلگت بلتستان سے تھے،کو آن لائن انٹرویوز کے ذریعے جعلی بیرونِ ملک نوکریاں دلا کر لالچ دیا۔
لاہور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے کمبوڈیا منتقل کرنے کے بعد متاثرین کو ویتنام کی سرحد کے قریب غیر قانونی طور پر قید کر دیا جاتا تھا۔قید کے دوران ان کے پاسپورٹ چھین لیے جاتے تھے اور انہیں آن لائن فراڈ اور جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں متاثرین کے اہل خانہ سے رہائی کے لیے 2,000 سے 5,300 امریکی ڈالر تک تاوان مانگا جاتا تھا۔ بہت سے متاثرہ افراد مطالبہ کردہ رقم ادا کرنے کے بعد ہی رہا ہوئے۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ یہ گروہ ایک منظم ٹریفکنگ اور بلیک میلنگ کا نیٹ ورک چلا رہا تھا جو کمزور شہریوں کا استحصال کر کے انہیں بیرونِ ملک ڈیجیٹل جرائم کی دنیا میں دھکیلتا تھا۔ملزموں کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایف آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے 12 دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو پکڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ایجنسی انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کو مکمل طور پر ختم کرنے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے پُر عزم ہے۔








