ایف آئی اے کے بھرتی ٹیسٹ میں فراڈ کی کوشش ، دو امیدواروں کے خلاف مقدمہ درج

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی بھرتی کے عمل کے دوران فزیکل فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد خود کو کامیاب امیدوار کے طور پر پیش کرنے اور دھوکہ دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں دو امیدواروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے

اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی بھرتی کے عمل کے دوران فزیکل فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد خود کو کامیاب امیدوار کے طور پر پیش کرنے اور دھوکہ دینے کی کوشش کرنے کے الزام میں دو امیدواروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایف آئی اےحکام نےاتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ یہ واقعہ ایف آئی اے کی مختلف پوسٹوں کے لیے جناح سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں منعقدہ جسمانی برداشت کے ٹیسٹ کے دوران پیش آیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں امیدوار جسمانی ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے باوجود مبینہ طور پر کامیاب امیدواروں کے گروپ میں شامل ہوئے اور بھرتی کے عمل کے اگلے مرحلے میں جانے کی کوشش کی جس میں قد اور سینے کی پیمائش بھی شامل تھی۔حکام کے مطابق پیمائش کے سیکشن کی نگرانی کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محفوظ احمد کو شک ہوا اور انہوں نے امیدواروں کو تصدیق کے لیے روک لیا۔مزید جانچ پڑتال سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں افراد کو جسمانی برداشت کے ٹیسٹ میں پہلے ہی ناکام قرار دیا جا چکا تھا اور وہ جان بوجھ کر خود کو اہل امیدوار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر ایف آئی اے حکام کو گمراہ کرنے اور جعلی ذرائع سے بھرتی کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔واقعے کے بعد ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 419 اور 420 کے تحت دھوکہ دہی اور نقالی سے متعلق جرائم کے تحت قانونی کارروائی شروع کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ کے اندراج اور مزید قانونی کارروائی کے لیے شکایت آبپارہ پولیس سٹیشن کو بھیج دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اپنے بھرتی کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور سرکاری طریقہ کار میں ہیرا پھیری کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔