ایف بی آر کا اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطگی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے CPLA نمبر 3886/2025 تاج محمد بنام کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پشاور کے تاریخی مقدمے میں سنا ئے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ یہ مقدمہ SRO 499(I)/2009) کے اطلاق کے حوالے سے دائر کیا گیا تھا جس میں SRO 1619(I)/2024 کے ذریعے ترمیم کی گئی تھی ۔ اس فیصلہ کے تحت اسمگل شدہ …

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے CPLA نمبر 3886/2025 تاج محمد بنام کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پشاور کے تاریخی مقدمے میں سنا ئے گئے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ یہ مقدمہ SRO 499(I)/2009) کے اطلاق کے حوالے سے دائر کیا گیا تھا جس میں SRO 1619(I)/2024 کے ذریعے ترمیم کی گئی تھی ۔ اس فیصلہ کے تحت اسمگل شدہ سامان کی نقل وحمل میں استعمال کی جانے والی گاڑی کو ضبط کرنے کی توثیق کی گئی ہے۔معززر عدالت کا یہ فیصلہ اسمگلنگ میں گاڑیوں کے غلط استعمال کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان کسٹمز کو دستیاب قانونی فریم ورک کے ہاتھ واضح طور پر مضبوط کرتا ہے۔

عدالت کا یہ حکم پاکستان کسٹمز کے انفورسمنٹ اختیارات سے متعلق وہ وضاحت فراہم کرتا ہے جس کا ایک عرصہ سے انتظار تھا۔ اس فیصلہ کے نتیجہ میں ملک گیر سطح پر انسداد اسمگلنگ کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی ۔معزز عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں ملک بھر کی کسٹمز فارمیشنز کو ایک ہزار سے زائد ضبط شدہ گاڑیوں کو نیلام عام کے ذریعے فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔

ان گاڑیوں کی نیلامی سے آٹھ ارب روپے سے زائد کی آمدن متوقع ہے جو براہِ راست قومی خزانے میں جمع ہوگی۔یہ بروقت اور منصفانہ فیصلہ عادی اسمگلروں کے لیے مؤثر رکاوٹ ثابت ہوگا اور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 157 کے تحت ضبط شدہ گاڑیوں کی فوری طور پر نیلامی میں مدد دے گا۔انفورسمنٹ کا میکانزم مضبوط ہونے سے ریونیو میں بہتری اور ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ کی کارروائیاں موثر انداز میں عمل میں لائی جا سکیں گی ۔