اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریفنڈز کی ادائیگی کےلئے دو طرح کے طریقہ کار اختیار کئے جاتے ہیں، ایک طریقہ کار خود کار نظام کے تحت برآمد کنندگان کو ریفنڈز جاری کرنے کےلئے اختیار کیا جاتا ہے، اس قسم کے زمرے میں آنے والے ریفنڈ کیسز کی جانچ پڑتال ریفنڈ …
ایف بی آر کی ریفنڈز کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی وضاحت
اسلام آباد ۔ 3 فروری (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریفنڈز کی ادائیگی کےلئے دو طرح کے طریقہ کار اختیار کئے جاتے ہیں، ایک طریقہ کار خود کار نظام کے تحت برآمد کنندگان کو ریفنڈز جاری کرنے کےلئے اختیار کیا جاتا ہے، اس قسم کے زمرے میں آنے والے ریفنڈ کیسز کی جانچ پڑتال ریفنڈ ادائیگی کے بعد کی جاتی ہے، دوسرا ریفنڈ کا طریقہ برآمدی سیکٹرز سے وابستہ نہ ہونے والے افراد کےلئے وضع کیا گیا ہے، اس قسم کے ریفنڈز ”جاری رہنے والے ریفنڈز“ کہلاتے ہیں۔ یہ ریفنڈز سال میں ایک مرتبہ جاری کئے جاتے ہیں۔ اس قسم کے ریفنڈکیسز میں آڈٹ ریفنڈ جاری ہونے سے پہلے کر لیا جا تا ہے۔ ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ غلط انوائسز دینے والے ٹیکس گزاروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور ان سے ریکوری کی جاتی ہے، ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اور قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کی جاتی ہے، آڈٹ کرنے کے مرحلہ میں بعض اوقات زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور وقت پر ریفنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے کاروباری افراد کو لیکویڈیٹی کا مسئلہ بن سکتا ہے جس کو روکنے کےلئے ریفنڈز جاری کر دیئے جاتے ہیں اور جانچ پڑتال کا عمل بعد میں مکمل کیا جاتا ہے۔ سسٹم کے اندر خود کار طریقے سے چیک کرنے کا بھی آپشن ہے تاکہ ریفنڈز دعویٰ کرنے والے کی ان پٹ آﺅٹ پٹ معلومات کی تصدیق کی جا سکے۔ ریونیو نقصان سے بچنے کےلئے جعلی انوائسز کی روک تھام کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔ فلائنگ انوائسز کو چیک کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں کریسٹ کا نظام بھی کمپیوٹر کے ذریعے استعمال ہو رہا ہے۔ ایف بی آر اس امر کو یقینی بنا تا ہے کہ تمام طرح کے ریفنڈز کی مکمل طور پر جانچ پڑتال کی جائے۔ بعض اوقات وقت زیادہ لگ سکتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں کہ جانچ پڑتال نہ ہو۔









